اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 142 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 142

142 جائیں۔پھر جب تک وہ دفتر میں رہتے۔ہر وقت اپنے کام میں مصروف رہتے۔اور اگر دفتری کام کسی دن ہلکا ہو، تو وہ اس وقت کو فارغ سمجھ کر دفتر چھوڑ کر گھر کو نہیں چلے جاتے تھے۔بلکہ دفتر کے پورے گھنٹوں میں دفتر میں موجود رہتے ، اور اس فارغ وقت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتابوں کا انڈکس تیار کیا کرتے تھے۔جو نہایت محنت اور دیدہ ریزی کا کام ہے۔چوہدری صاحب کی عملی دفتری زندگی ان کا غذات سے بخوبی ظاہر ہے جو ان کے سامنے پیش ہوتے۔وہ کاغذات کو زیادہ دیر تک ملتوی نہ رکھتے تھے۔فوراً اس پر جو فیصلہ کرنا ہو کر دیتے تھے۔یہ امر دیگر ہے کہ اگر مشاورت میں وہ معلق رہے تو معذور تھے۔ورنہ جہاں ان کو خود کوئی فیصلہ کرنا ہو، اسے وہ زیادہ دیر تک رکھنے کے عادی نہ تھے۔میں خود ایک تیز طبیعت رکھتا ہوں۔اور مختلف مواقع پر کبھی بحیثیت ناظر، کبھی بحیثیت ممبر مشاورت ، اتفاقیہ میں ان سے کا رو باری سلسلہ میں ملا ہوں۔اور میں نے دیکھا کہ وہ اس کے خوگر نہ تھے کہ اپنا تفوق ظاہر کریں یا کام کو کسی وجہ سے التواء میں ڈالیں۔عام طور پر وہ خود اپنے ہاتھ سے احکام لکھتے۔لیکن اپنے محرر سے بھی لکھواتے۔اس میں ان کا طریق عمل یہ نہ تھا کہ محرران کے خیالات اور دماغ پر حکومت کرے۔یا وہ آسانی کے لئے اس پر چھوڑ دیں کہ جو چاہے لکھ دے اور وہ دستخط کر دیں۔بلکہ وہ خود املاء کراتے تھے اور پھر پڑھ کر اس پر دستخط کرتے۔* قواعد و ضوابط کے پورے پابند۔وہ اپنے لفظ اور حکم کو قانون سمجھتے تھے، بلکہ یہ درجہ ان کے ایمان میں اور عمل میں حضرت خلیفہ اسیح کے ارشاد کو حاصل تھا۔میں نے بعض اوقات دیکھا کہ وہ ایک نہایت ضروری کام میں مصروف ہیں اور حضرت کا حکم کسی اور کام کے لئے آگیا جو بظاہر اتنا اہم نہیں۔مگر وہ جھٹ اس کے لئے کھڑے ہو گئے۔ایک مرتبہ میں نے کہا کہ چوہدری صاحب اس کو ختم کر لیں۔فرمایا کہ کام وہی ہے جو حضرت صاحب فرمائیں۔جب یہ حکم آگیا تو یہ مقدم ہو گیا ہے۔غرض وہ وقت کے پابند تھے اور تمام وقت نہایت مکرم شیخ محمد دین صاحب کا جو بیان اس بارہ میں پہلے درج کیا جا چکا ہے۔اس میں اور حضرت عرفانی صاحب کے بیان میں تضاد نہیں بہشتی مقبرہ کے صیغہ کا اکثر کام ایک معمول کا رنگ رکھتا ہے۔جس کے روز مرہ کے کام میں ایک یکسانیت ہوتی ہے ، اور اس کے ہرامر میں منفرد ہدایت کی ضرورت نہیں ہوتی۔البتہ جہاں منفرد ہدایات کی ضرورت ہوتی ہے، اس بارہ میں شیخ صاحب نے حضرت چوہدری صاحب کے مفید مشوروں اور ہدایات کا ذکر کیا ہے۔