اصحاب احمد (جلد 11) — Page 143
143 محنت اور اخلاص سے مصروف کا ررہتے تھے۔اپنے ماتحتوں اور دوسرے لوگوں سے وہ ہمیشہ ایک بھائی کی حیثیت سے اپنے دفتر میں ملتے تھے۔اور اس جذبہ نے لوگوں کے دلوں میں ان کی محبت اور اس محبت کا جائز خوف جو ان کے عہدہ کے لحاظ سے پیدا کر دیا تھا۔لوگ ان سے اس لئے نہ ڈرتے تھے کہ وہ کوئی سنگ دل اور خوفناک وجود ہے۔بلکہ یہ خوف ان کی محبت اور اخلاص کا نتیجہ تھا کہ ایسا محسن اور شریف بزرگ کسی وجہ سے ناراض نہ ہو جائے۔اس خوف کی ویسی ہی مثال ہے جیسا ماں سے بچوں کو ہوتا ہے یا حضرت امام سے ہے۔اپنے فرض منصبی کی بجا آوری میں وہ تالیف قلوب اور رعایت کے پہلو مدنظر رکھتے تھے۔مگر انصاف اور فیصلہ کے وقت وہ کسی کی پرواہ نہ کرتے تھے۔اور یہ کمال تھا کہ ان کے فیصلہ کو باوجود یکہ کسی کے خلاف بھی ہو تو کسی کو نا گوار نہیں ہوتا تھا۔اس لئے یہ تسلی اور اطمینان ہوتا تھا کہ چوہدری صاحب نے نہایت بے نفسی اور خیر سگالی سے کیا ہے۔دد کسی کام سے عذر نہ ہوتا تھا“ چوہدری صاحب کے لہی وقف کا ایک عملی ثبوت یہ بھی تھا کہ وہ کبھی کسی کام سے انکار نہ کرتے تھے۔جو کام دے دیا جائے وہ اسے کرتے۔مقبرہ بہشتی کے افسر بھی وہ ایک عرصہ تک رہے اور انہوں نے اس کام کو بھی نہایت مستعدی اور محنت کے ساتھ باوجود اپنے دوسرے اہم فرائض اور مشاغل سے پورا کیا۔اور اس کے علاوہ بعض اوقات کسی کمیشن یا خاص کمیٹی میں کام کرنا پڑا تو اس میں اسی تندہی سے شرکت کی۔وہ انجمن یا نظارتوں یا کمشنوں اور کمیٹیوں کے اجلاس میں سب سے زیادہ حاضر باش ممبر ہوتے تھے۔اور رائے دیتے وقت نہایت احتیاط اور غور سے رائے دیتے تھے کبھی جلدی نہ کرتے۔طبیعت میں جلد بازی اور جوش بے جانہ تھا۔مگر باوجود اس کے سلسلہ کے لئے پوری غیرت اور جوش تھا۔اکرن کا معرکہ شدھی“ مجھ کو ذاتی طور پر اس کے دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے۔جب یو پی اور ریاست بھر تیپور وغیرہ میں شدھی کی تحریک زوروں پر ہوئی۔اور اکرن کے متعلق حکام ریاست کی زبردستیوں کی شکایات پہنچیں تو حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے خاکسار عرفانی کو اس میدان میں اترنے کا حکم