اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 141 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 141

141 ذکر کریں۔لوگ حضرت خلیفتہ المسیح ثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے حضور پہنچ کر اپنے حالات عرض کرنے میں آسانی اور سہولت پاتے ہیں۔اور باوجود اس عزت وعظمت کے جو حضور کی قلوب میں ہے۔اور باوجود اس خوف کے جو اس عظمت و جلال کے تصور سے ہوتا ہے ، لوگوں کو یہ شعور اور بصیرت ہے کہ وہ آسانی سے عرض کر سکتے ہیں۔اس لئے کہ وہ خوف محبت کا نتیجہ ہے۔لیکن بعض اوقات ناظروں کے پاس جانے میں انکو جھجک اور ڈر معلوم ہوتا ہے۔چوہدری صاحب کا وجود ناظروں میں خاص امتیاز رکھتا تھا کہ لوگ ان سے بلا تکلف جا کر عرض حال کر لیتے تھے۔اور انہوں نے صحیح طور پر حضرت خلیفہ امسیح کے منشاء کو سمجھ کر اپنی عملی زندگی سے اس کا ثبوت دیا۔اپنے ماتحتوں کے ساتھ ان کو گو قدرتی طور پر امتیاز اور تفوق تھا۔مگر عملاً وہ ایک احمدی سے لے کر ناظر تک سے یکساں سلوک اور یکساں احترام کرتے تھے۔” جب تک وہ زندہ رہے اور سلسلہ کا کام کرتے رہے، نہ صرف آنریری طور پر کام کرتے تھے بلکہ سلسلہ کی ہر تحریک میں بڑھ کر حصہ لیتے تھے۔اور ان میں اطاعت اور فرمانبرداری کی ایسی روح تھی کہ وہ پیدا نہیں ہو سکتی جب تک کوئی شخص خدا تعالیٰ کو دیکھ نہ لے اور اس کی تجلیات کا پر تو اس پر پڑ کر اس کی خودی کی ہستی کو جلا نہ دے۔چوہدری صاحب کی دفتری زندگی میں اس موقعہ پر چوہدری صاحب کی دفتری زندگی پر ایک نظر کئے بغیر آگے نہیں جاسکتا۔عام طور پر لوگ آنریری کام کو یا تو اپنی نمائش و نمود کے لئے یا بطور مشغلہ کے کرتے ہیں۔مگر چوہدری صاحب اس کام کو زیادہ عزت و وقعت کی نظر سے دیکھتے تھے، جو کسی دنیوی مفاد اور معاوضہ کے لئے کیا جائے۔وہ اپنے فرض منصبی کے لئے جہاں تک میرا تجربہ ہے ٹھیک وقت پر دفتر آنے والے تھے اور خواہ کچھ بھی ہو، اس طرح پر آیا کرتے تھے جیسے کوئی مزدور کام پر اس لئے جا رہا ہے کہ اگر دیر ہو جائے گی تو اس کا کچھ نقصان ہو جائے گا۔اور وہ مادی مفاد سے محروم ہو جائے گا۔چونکہ نظارتوں کے دفاتر کو جانے کے لئے میرے کو چہ سے گزر کر جانا لازمی ہے اور میں ان نظاروں کو ایک غور طلب اور مطالعہ کن نظر سے دیکھنے کا عادی ہوں۔میں نے کبھی کسی ناظر کو چوہدری صاحب سے پہلے دفتر کو جاتے ہوئے نہیں دیکھا۔اور چوہدری صاحب ایسے وقت پر جایا کرتے تھے کہ وقت سے پہلے پہنچ