اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 129 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 129

129 فرماتے۔اور میں بغیر مبالغہ کہ سکتا ہوں کہ میں نے بحیثیت ناظر اعلیٰ حضرت چوہدری صاحب کو بہترین کارکن پایا ہے۔رضی اللہ عنہ جب چوہدری صاحب دیکھتے کہ اجلاس میں ناظر صاحبان تھکن محسوس کر رہے ہیں اور انہیں کچھ کھانے پینے کی ضرورت ہے تو آپ چپکے سے اپنے مددگار کارکن یا کلرک کو ہدایت فرماتے۔اور تھوڑی دیر میں ہم دیکھتے کہ میز پر خوردونوش کی اشیاء موجود ہیں ، اور چائے کی پیالیاں یا شربت کے گلاس چنے ہوئے ہیں۔اس بارہ میں میں نے انہیں بڑا ہی سخی دل پایا۔لیکن آپ یہ سلوک نہایت خاموشی سے اور بغیر کسی قسم کے اظہار کے یا بغیر ہم سے دریافت کئے کرتے۔آخری دنوں میں جب چوہدری صاحب بیماری کی وجہ سے رخصت لے کر سیالکوٹ جانے لگے۔صدر انجمن احمدیہ کا اجلاس چوبارہ پر جو مرزا مہتاب بیگ صاحب کی دکان پر تھا، منعقد ہورہا تھا۔لکڑی کی سیڑھیاں اوپر جاتی تھیں۔میں بھی اجلاس میں شریک ہونے کے لئے اوپر جارہا تھا۔اتنے میں میں نے آہٹ پائی۔میں کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت چوہدری صاحب آہستہ آہستہ میرے پیچھے آرہے ہیں۔مجھے متوجہ دیکھ کر فرمانے لگے۔میں آج گھر سے نکلنے سے پیشتر آپ کی کتاب ” ہماری نماز ختم کر کے آیا ہوں۔اور دل میں یہ خواہش ہے کہ آپ اسے ہیں ہزار کی تعداد میں شائع کروا ئیں اور جو خرچ آئے ، وہ میں دوں گا۔مجھے آپ کے اس ارشاد سے بہت خوشی ہوئی۔آپ نے مزید برآں فرمایا۔اسے ہر احمدی کے گھر میں مفت بلا قیمت اس ہدایت کے ساتھ بھیجا جائے کہ وہ اسے خود بھی پڑھے ، اور اپنے بچوں اور دوستوں کو بھی پڑھائے۔تا کہ کم سے کم نماز کی حقیقت اور اہمیت سے ہمارے دوست آگاہ ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو نماز ہمیں سکھائی۔آپ نے اسباق کی صورت میں اور اچھے پیرا یہ میں اسے مرتب کر دیا ہے۔میں ان دنوں ناظر تعلیم و تربیت تھا۔اور میں نے یہ کتاب اسی غرض سے شائع کی تھی۔تا جماعت کی تربیت میں مدد دے۔ہر مہینہ میں مجھے مولوی عبد المغنی صاحب سے نظارت تجارت کا چارج لینے کے لئے سیالکوٹ جانا پڑا۔کیونکہ میرا یہ اصرار تھا کہ میں تجارت کا چارج سیالکوٹ میں ہی لوں گا۔کیونکہ ہمارا تجارت کا تعلق اس شہر سے ہے۔اور صدر انجمن احمدیہ نے میری یہ تجویز منظور کر لی۔اور ہمیں اجازت دی کہ چارج سیالکوٹ میں ہو۔چنانچہ ہم کبوتر انوالی مسجد میں بیٹھ کر تجارت سے متعلق رجسٹروں کی پڑتال