اصحاب احمد (جلد 11) — Page 128
128 لکھ کرنا ظر صاحب اعلیٰ کو دیا۔اس پر میں یہ سمجھا کہ اس پر اور ناظروں کے بھی دستخط ہوں گے۔ناظر صاحب اعلیٰ نے کہا۔اس احتجاج کو حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں پیش کرنے کی ضرورت نہیں آپ لوگ اجلاس میں آئے متنازعہ فیہ معاملہ ملتوی رہے گا۔چنانچہ یہ معاملہ وقتی طور پر رفع دفع ہو گیا۔اور اجلاس پھر شروع ہو گیا۔لیکن کچھ دنوں بعد وہ معاملہ پھر زیر بحث آ گیا۔اور مجھے پھر پہلے الفاظ دوہرانے پڑے۔جس پر سابقہ صورت قائم ہو کر صدرانجمن احمدیہ کا اجلاس مزید دو ہفتے تک ہند ہو گیا۔اور آخر مخالف رائے ناظر صاحب نے اصرار کیا کہ ان کا لکھا ہوا احتجاج حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی خدمت میں پیش کیا جائے۔اور مجھے معلوم نہیں کہ احتجاج میں کیا کچھ لکھا گیا تھا۔اور کس کس ناظر نے اس پر اپنے دستخط ثبت کئے تھے۔چوہدری صاحب وہ احتجاج لے کر حضور انور ایدہ اللہ کے پاس تشریف لے گئے۔حضور کا دفتران دنوں گول کمرہ میں تھا۔حضور نے فرمایا۔فریقین کو میرے پاس آنا چاہیئے۔تا میں ان کی باتیں سن کر کوئی فیصلہ دے سکوں۔چوہدری صاحب واپس تشریف لائے اور حضور کے پاس چلنے کو کہا۔جب ہم اٹھے تو آپ پنجابی میں فرمانے لگے۔”بھراؤ میری گل سن لو، پیچھے شکایت نہ کرنا۔حضور نے میری رائے دریافت فرمائی سی تے میں کہیا سی کہ میری رائے و چہ شاہ صاحب دی رائے درست اے اور میں ایہہ بھی عرض کر دتا سی کہ چوہدری فتح محمد صاحب اور درد صاحب نے ایس احتجاج اتے دستخط نہیں کیتے۔“ دوسرے ناظر صاحب نے فرمایا۔چوہدری صاحب! آپ نے ہمیں پہلے کیوں نہیں بتایا۔فرمایا۔میں آپ کی رائے میں دخل دینا نہیں چاہتا تھا۔اور چاہتا تھا کہ کسی طرح آپ دونوں کے درمیان سمجھوتہ ہو جائے۔آپ کی یہ بات سن کر سب ناظر صاحبان متفق ہو گئے اور حضور کے پاس جانے سے گریز کرنے لگے۔چوہدری صاحب حضور کے پاس تشریف لے گئے اور عرض کیا۔حضور فریقین کے درمیان مصالحت ہوگئی ہے۔اور وہ اب حضور کے پاس آنا نہیں چاہتے۔مجھے پہلے یہ علم نہیں ہو سکا تھا کہ محترم چوہدری صاحب کی رائے کس طرف ہے آپ خاموشی سے ہماری باتیں سنتے رہے۔اور اندر ہی اندر ایک رائے قائم کر لی اور عین موقعہ پر اپنی رائے کا اظہار فرمایا۔حضرت چوہدری صاحب کا مجھ پر بہت زیادہ اعتماد تھا۔جب کبھی کوئی اہم بات ہوتی ، آپ مجھے بلاتے۔اس کے متعلق اپنی رائے کا اظہار فرماتے۔اور مجھے اس امر کے انجام دینے کے لئے ہدایت