اصحاب احمد (جلد 11) — Page 130
130 کرتے اور دیکھتے۔ایک دن چوہدری صاحب اس مسجد کے برآمدے میں بیٹھے ہمیں دیکھ رہے تھے کہ کس محنت سے ہم دونوں کام کر رہے ہیں۔آپ نے بغیر ہماری خواہش کے اچھی قسم کے آم منگوائے جو برف میں لگے ہوئے تھے۔اور فرمایا ناظر صاحبان آپ بہت تھک گئے ہیں۔آئیے میں آپ کی تھکان کے دور کرنے میں مدد دوں۔اور آپ نے بڑی محبت سے وہ آم پیش کئے۔درمیان میں آپ باتیں بھی کرتے رہے۔آپ کا ہم سے سلوک باپ کے سلوک کا سا تھا۔تجارت کے حسابات میں بہت سی خامیاں تھیں۔جن کی رپورٹ صدر انجمن احمدیہ میں کی گئی۔حضور ان دنوں ڈلہوزی میں تھے۔آپ کے پاس رپورٹ پہنچی تو آپ نے مجھے اور مینجر صاحب تجارت کو ڈلہوزی بذریعہ تار طلب فرمایا۔حضور کو جب معلوم ہوا کہ تجارت کا کاروباررُو بہ زوال ہے تو حضور کو بہت سخت صدمہ ہوا۔حضور نے منیجر کو تو بہت جلد رخصت کر دیا۔لیکن مجھے اپنے پاس ہی ٹھہرا لیا۔رات کو تار پہنچی کہ حضرت چوہدری نصر اللہ خاں صاحب فوت ہو گئے ہیں۔جس سے حضور کو بہت صدمہ ہوا۔مجھے بھی تکلیف ہوئی۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔دوسرے دن صبح ہی حضور بذریعہ کا ر قا دیان تشریف لے آئے۔تا چوہدری صاحب کے جنازہ میں شامل ہوں۔مجھے بھی حضور ساتھ لائے۔میں اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہوں کہ میں آپ کے جنازہ میں شریک ہو سکا اور اس طرح ہم نے اپنے ایک عزیز ترین اور ہر دلعزیز ناظر اعلیٰ کو دعاؤں کے ساتھ الوداع کہا۔اَللَّهُمَّ ارْحَمْهُ وَاغْفِرْلَهُ وَصَلِّ وَبَارِكْ وَسَلَّمْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ أَجْمَعِينَ اسی طرح سفر کے دوران میں ایک واقعہ بیان کرتا ہوں ، جس کا تعلق براہ راست حضرت چوہدری نصر اللہ خاں صاحب کی زندگی سے تو نہیں مگر حضرت خلیفتہ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ کی نور نظر سے متعلق ہے۔منیجر تجارت اور میری گفتگو سننے کے بعد آپ نے ذہن میں فوراً فیصلہ کیا۔جس کا مجھ سے ذکر نہیں فرمایا۔لیکن دوسرے روز جب ہم دو نیرہ مقام پر پہنچے۔جو ڈلہوزی اور پٹھان کوٹ کے درمیان ہے۔اور ٹریفک کے انتظام کے ماتحت ہمیں وہاں کچھ دیر انتظار کرنا پڑا۔حضور نے چاہا کہ چائے کے کمرہ میں جا کر چائے پیئیں اور سفر کی کوفت دور کریں۔مجھے بھی ساتھ لے گئے اور چائے کے لئے فرمایا۔میں نے معذرت کی کہ مجھے بخار ہے۔دمشق اور عراق میں مجھے تبلیغ اور عربی کتب کی تصنیف اور سیاسی پابندیوں کو دور کرنے میں بڑی کوفت اٹھانی پڑی ہے۔آپ نے یہ سن کر فرمایا کہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے کے لوگ ہیں۔جن پر ذمہ داری بہت بڑی ذمہ داری