اصحاب احمد (جلد 11) — Page 106
106 سرزد ہو جائے تو اس وقت کو یاد کرنا اور اسے معاف کر دینا۔پھر شکر اللہ خان کی بیوی سے دریافت کیا۔کیا میری صندوقچی لے آئی ہو؟ اس نے کچھ حیران ہو کر پوچھا۔کونسی صندوقچی ؟ والدہ صاحبہ نے جواب دیا۔وہی جس میں میرے کفن کی چادریں رکھی ہیں۔زینب بی بی نے کہا ہم نے تو تار ملتے ہی دلی آنے کی تیاری شروع کر دی جلدی میں کچھ اور سوجھا ہی نہیں اور یہ بھی علم نہیں تھا کہ وہ صند و چی ڈسکہ میں ہے۔والدہ صاحبہ نے فرمایا میں نے تو کوئی تا رنہیں دلوایا میں نے عرض کی تار میں نے دئے تھے۔” میرے دہلی پہنچنے سے قبل والدہ امتہ اہنی سے فرما چکی تھیں کہ جب قادیان لے جاؤ گے تو مجھے بیت الظفر کی نچلی منزل میں ہی رکھنا اوپر کی منزل پر میرے اپنے کمرے میں نہ لے جانا اور مجھے فلاں مقام پر غسل دینا۔اب پھر مجھ سے بھی یہی فرمایا۔اس پر والدہ امتہ الحئی نے عرض کی کہ جو جگہ آپ نے غسل کے لئے تجویز کی ہے وہ تو کافی نہیں اور وہاں پورا پردہ بھی نہیں۔مسکرا کر فرمایا بہت کھلی ہے اور پردہ بھی ہے تم نے اچھی طرح اس کا اندازہ نہیں کیا۔اتنے میں سول سرجن صاحب بھی آگئے۔انہوں نے ڈاکٹر لطیف صاحب کے ساتھ مشورہ کر کے کچھ اور ٹیکے تجویز کئے۔میں نے ڈاکٹر صاحب سے الگ دریافت کیا کہ اگر علاج کے لحاظ سے والدہ صاحبہ کا دہلی رہنا ضروری ہو تو چارہ نہیں۔لیکن اگر علاج کے آخری مراحل ختم ہو چکے ہوں تو آپ مجھے بتا دیں تا میں اس کی یہ خواہش بھی پوری کرنے کی کوششیں کروں کہ انہیں قادیان لے جاؤں انہوں نے کہا کہ اب تک تو کسی ٹیکے کے نتیجے میں دل کی حالت کی اصلاح نہیں ہوئی لیکن ہم ایک دو اور ٹیکے لگانا چاہتے ہیں جن کا نتیجہ پون گھنٹے تک معلوم ہو سکے گا۔اس وقت ہم بتاسکیں گے کہ کیا صورت ہے۔یہ وقفہ گذر جانے کے بعد پانچ بجے کے قریب ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ کسی ٹیکے کا خاطر خواہ اثر نہیں ہوتا۔اب علاج کے سب مراحل ختم ہو چکے ہیں اور دل کی یہ حالت ہے کہ اندازاہ ہے کہ آدھ گھنٹہ یا پون گھنٹہ سے زیادہ کام نہیں کر سکے گا۔“ سفر قادیان اور آخری گفتگو : اس پر میں والدہ صاحبہ کے پاس گیا اور کہا۔اب میں آپ کو قادیان لے چلتا ہوں۔بہت