اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 105 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 105

105 تو ہفتہ کی شام کو واپس چلے جائیں۔کیونکہ یہ توقع کی جاتی تھی کہ اس وقت تک والدہ صاحبہ کی حالت روبصحت ہو چکی ہوگی ۴ ارمئی ہفتہ کے دن دو پہر تک والدہ صاحبہ کی وہی حالت رہی۔دو پہر کے وقت سب لوگ تو عزیز بشیر احمد کے ہاں کھانا کھانے کیلئے چلے گئے۔والدہ امتہ الحئی اور خاکسا ر والدہ صاحبہ کے پاس رہے۔کھانا کھانے کے بعد دو بجے کے قریب خاکسار وضو کر رہا تھا کہ مجھے کسی نے آواز دی کہ والدہ صاحبہ یاد فرماتی ہیں۔میں ان کے کمرہ میں گیا تو دیکھا کہ انہوں نے اپنی نبض پر ہاتھ رکھا ہوا ہے۔مجھے دیکھ کر مسکرا ئیں اور کہ آؤ بیٹا اب آخری بات لیں۔اور اپنے بھائیوں اور بہن کو بھی بلا لو۔ڈاکٹر صاحب اس وقت کمرہ ہی میں ٹیکا تیار کر رہے تھے انہوں نے انگریزی میں مجھ سے کہا۔دل کی حالت بگڑ گئی ہے۔اور نبض بھی بہت کمزور ہو گئی ہے۔لیکن میں نے والدہ صاحبہ سے کچھ نہیں کہا۔انہوں نے خود ہی نبض سے شناخت کر لیا ہے۔اسکے بعد ڈاکٹر صاحب نے ٹیکا کیا اور سول سرجن صاحب کو بھی ٹیلیفون پر بلالیا۔ٹیکا کرنے کے تھوڑی دیر بعد ڈاکٹر صاحب نے نبض دیکھ کر کہا۔بے بے جی اب تو نبض ٹھیک چل رہی ہے۔والدہ صاحبہ نے خود نبض دیکھ کر فر مایا ٹھیک تو نہیں چل رہی وا پس آگئی ہے۔لیکن ابھی کمزور ہے۔اتنے میں وہ سب عزیز جو کھانا کھانے کے لئے گئے ہوئے تھے ، واپس آنے شروع ہو گئے۔اور چوہدری بشیر احمد صاحب اور شیخ اعجاز احمد صاحب بھی اطلاع ملنے پر تھوڑی دیر کے بعد کچہری سے آگئے۔والدہ صاحبہ نے فرمایا۔یہ وقت سب پر آتا ہے اور اولا د کو جب والدین سے جدا ہونا پڑتا ہے تو انہیں کرب بھی ہوتا ہے۔لیکن میں اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی ہوں اور خوشی سے اس کے حضور جارہی ہوں۔میں تم سب سے رخصت ہونا چاہتی ہوں۔لیکن چاہتی ہوں کہ تم لوگ کوئی شور غوغا نہ کرو۔نہ اس وقت نہ میرے بعد۔پھر ہمشیرہ صاحبہ کے کان میں کچھ کہا اور انہوں نے والدہ صاحبہ کے کان میں کچھ کہا۔پھر باری باری سے والدہ صاحبہ نے بیٹوں سے پیار کیا اور دعا دی اور پھر بہوؤں سے اور ایسا ہی بشیر احمد اور اعجاز احمد سے اور ڈاکٹر صاحب سے اور امینہ بیگم سے اور احمدہ بیگم سے اور غلام نبی اور عزیز احمد اور چوہدری فضل داد صاحب سے رخصت ہوئیں پھر امتہ الحئی کو بلوایا اور اسے پیار کیا۔پھر عبدالکریم کو بلوایا اور اسے دعا دی۔غرض جو کوئی بھی موجود تھا۔اس سے رخصت ہوئیں۔غلام نبی اس وقت غم سے بہت مضطرب ہوا جارہا تھا اسے تسلی دی اور مجھے فرمایا دیکھو بیٹا اگر اس سے کوئی قصور