اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 310 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 310

310 مختلف فرقوں کا وفد گورنر پنجاب سے مل کر مسلم آؤٹ لک کے ایڈیٹر وغیرہ کی رہائی کا مطالبہ کرے۔دوسرے پنجاب، دہلی اور صوبہ سرحد کے پانچ لاکھ افراد کے دستخط سے ایک وفد کے ذریعہ ایک محضر نامہ حکومت کے سامنے پیش کر کے مطالبہ کیا جائے کہ وہ تمام مذاہب کے بزرگوں کی عزت کی حفاظت کے لئے مناسب تدابیر اختیار کرے۔اور جسٹس دلیپ سنگھ کو جن پر صوبہ کی اکثریت کو اعتماد نہیں رہا، اس عہدہ جلیلہ سے الگ کر کے مسلمانوں کی بے چینی دور کرے۔اور چونکہ ہائی کورٹ کے ہندوستانی جوں کی اکثریت ہندوؤں کی ہے اور اس میں پنجاب کے مسلمانوں کی سخت ہتک ہے۔اس لئے مسلمان بیرسٹروں میں سے ایک جج مقرر کیا جائے۔اور موجودہ مسلمان جوں کو مستقل کیا جائے۔اور پنجاب کا آئندہ چیف حج مسلمان ہو۔آپ نے اتحاد کی بھی تلقین کی اور بتایا کہ ہند وموجودہ تحریک کو دبانے کے لئے مسلمانوں کو جوش دلا کر حکومت سے لڑوانے اور دوسری طرف فرقہ وارانہ منافرت پھیلا کر آپس میں انشقاق پیدا کرنا چاہتے ہیں، اور خفیہ طور پر حکام اور بعض مسلمانوں کے ذریعہ ایسی کوشش ہو رہی ہے۔“ یہ امر نہایت ضروری تھا اور مسلمانوں کا اس میں مفاد تھا کہ حکومت اور مسلمان ایک دوسرے سے بدظن نہ ہوں۔ابتداء میں ایک وفد سے گورنر پنجاب نے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے وعدہ بقیہ حاشیہ:۔مسٹر جسٹس براڈوے :۔یہ صورت تو ان مقدمات میں ہوتی ہے ، جہاں پر پرنٹر و پبلشر مضمون کے متعلق اپنی لاعلمی ظاہر کرتا ہے۔لیکن اس مقدمہ میں نہ ہی صرف ایسا نہیں کیا ، بلکہ وہ اپنے تئیں مصنف کے ساتھ شامل کرتا ہے۔کیا اب بھی وہ اظہار افسوس کرنے کو تیار ہے؟ اس مرحلہ پر مولوی نور الحق صاحب پر نر و پبلشر نے کھڑے ہوکر بیان کیا کہ یہ معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔میں اس مضمون کی پوری ذمہ واری اپنے سر پر لیتا ہوں، خواہ وہ ذمہ واری قانو نا مجھ پر عاید ہوتی ہو یا نہ۔مسٹر جسٹس براڈوے:۔پرنٹر و پبلشر تو اب بھی اظہار افسوس کرنے کو تیار نہیں ہے۔بلکہ اس کی طرف سے جو بحث کی گئی ہے ، اس کی تائید سے بھی پر ہیز کرتا ہے۔مسٹرنوڈ سرکاری وکیل :۔میں صرف اسی قدر کہنا چاہتا ہوں کہ ملزمان کی طرف سے جو مفہوم فقرہ زیر بحث کا بیان کیا گیا ہے وہ قابلِ قبول نہیں اور اس فقرہ سے صاف توہین عدالت مقصود ہے۔اس کے بعد مسٹر جسٹس براڈوے نے شریک جوں سے مشورہ کے بعد فیصلہ سنا دیا۔