اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 311 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 311

311 وو کیا تھا کہ یا تو وہ موجودہ فیصلہ ہائی کورٹ کو تبدیل کرائیں گے یا قانون میں ترمیم کرا کے آئندہ ایسے دلآزار لٹریچر کی اشاعت کو ناممکن بنا دیں گے۔اس پر روز نامہ ٹربیون‘لاہور نے بہت تلخ الفاظ استعمال کرتے ہوئے گورنر سے اپنے الفاظ واپس لینے کا مطالبہ کیا تھا۔اور گورنر کو مسلمانوں کے متعلق مربیانہ رویہ رکھنے والا اور فرقہ وارانہ احساسات کی حوصلہ افزائی کرنے والا قرار دیا تھا اور اسے مسلمانوں کی موجودہ متمردانہ روش کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔اور بعض حکام جماعتِ احمدیہ کو شبہ کی نگاہ سے دیکھنے لگے تھے۔حضرت امام جماعت احمدیہ کی کوشش تھی کہ مسلمان عدم تعاون و غیرہ قسم کی تحریکات شروع نہ کریں۔اور اس کے نقصانات گنائے اور بتایا کہ یہ کام کرنے کا وقت ہے نہ جیل خانہ جانے کا۔اور ضرورت اس بات کی ہے کہ بے فائدہ جوش سے اپنی قوتوں کو ضائع نہ کیا جائے۔آپ نے یہ بھی بار بار واضح کیا کہ حکومت نے مخالفانہ قدم نہیں اٹھایا، بلکہ عدالت کی طرف سے دل آزاری ہوئی ہے اور حکومت کا دوسرا حصہ یعنی گورنر کی طرف سے دل آزاری دور کرنے کی کوشش ہورہی ہے۔جہاں ایک طرف آپ نے حکومت کو مشورہ دیا، کہ چوہدری فضل حق ( مشہور مخالف احمدیت احراری لیڈر ) کے متعلق وزیر مالیات سر جافرے مانٹ مارنسی کو اسمبلی میں کھلے بندوں مل کر حرف گیری نہیں کرنا چاہیئے تھی۔اس طرح بجائے اصلاح کے فساد بڑھتا ہے۔دوسری طرف مسلمانوں کو سمجھایا تھا کہ سر جافرے کے سابق رویہ کے متعلق کسی کو شکایت نہیں۔ان کی تعریف سنی جاتی ہے۔ان کو جو رپورٹ آئی ، اسے درست سمجھتے ہوئے انہوں نے بیان دے دیا۔اس میں ان کا کوئی قصور نہیں۔خواہ رپورٹوں کو ہم غلط قراردیں۔لیکن سر جافرے کی نیت پر ہم حملہ کرنے کے مجاز نہیں۔اور سخت الفاظ کہنے سے ہمارے مقصد کی بلندی ثابت نہیں ہوسکتی اور سخت زبانی سے دنیا میں کبھی فائدہ نہیں ہوا۔(الفضل ۲/۸/۲۷) جب حضور کے مجوزہ وفد کی ملاقات سے گورنر نے انکار کر دیا، تو بھی آپ نے مسلمانوں کو سمجھایا کہ باوجود اس کے بھی پھر کسی وقت ملاقات ہو سکتی ہے۔چونکہ ہائی کورٹ پر گندے طور پر قادیان سے دستخطوں کی مہم بہت تنظیم کے ساتھ پایہ تکمیل تک پہنچائی گئی تھی۔مجھے یاد ہے کہ تعطیلات موسم گرما میں وطنوں کو جانے والے طلباء سے بھی کام لیا گیا تھا۔چنانچہ میں جو احمد یہ مدرسہ کی پانچویں جماعت کا طالبعلم تھا۔مجھے بھی محضر نامہ دیا گیا اور میں نے پاک پٹن سے ایک ملحقہ گاؤں کے مسلمانوں سے دستخط کروائے تھے۔