اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 261 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 261

261 ساتھ وابستہ ہے۔(الفضل ۲۰/۱/۴۸) (۵) پاکستان پارلیمنٹ میں آپ نے ہندو دھرم کے گرنتھوں سے بہت سے حوالہ جات پیش کر کے ثابت کیا کہ اچھوت مذہبی اور قومی لحاظ سے ہندوؤں کا جز نہیں۔بلکہ ہندوؤں نے بعض مخصوص سیاسی مفاد کی خاطر انہیں اپنے میں شامل رکھا ہے۔سو ان کو علیحدہ نمائندگی دی جائے گی۔اس پر سورن ہندو بہت جزبز ہوئے۔کیونکہ ان کا اقتدار ختم ہوتا تھا۔لیکن چوہدری صاحب نے انہیں بتایا کہ حکومت بل واپس لے سکتی ہے۔بشرطیکہ سورن ہندو اس بھیا نک تعلیم کو اپنے شاستروں سے نکال دیں۔روزنامہ ”ویر بھارت نے پنڈت ظفر اللہ کے عنوان کے تحت ایک مخالفانہ تبصرہ ย بقیہ حاشیہ: کے ہمنوا تھے۔حکیم میر حسام الدین صاحب نے اپنے چچا زاد بھائی کے استفسار پر یہ اقرار کیا کہ حضرت عیسی وفات پاگئے ہیں۔جیسے آپ کے والد واپس نہیں آئے وہ بھی واپس نہیں آئیں گے۔(ص۲۸۴) نیز مولانا میر حسن صاحب حضرت مرزا صاحب کے حد درجہ القاء کے قائل تھے۔چنانچہ اپنے بیان میں وہ تحریر فرماتے ہیں کہ حضرت مرزا صاحب اس جوانی کے عالم میں جبکہ چوبیں چھپیں سال کی عمر تھی ، پادریوں کو مباحثات میں لاجواب کر دیتے تھے۔بہت نیک باطن تھے۔دنیوی اشغال کے لئے نہیں بنائے گئے تھے۔فارغ اوقات میں قرآن مجید کی تلاوت میں مصروف رہتے اور تلاوت کے وقت زار زار روتے تھے۔خشوع و خضوع والی ایسی تلاوت کی نظیر نہیں ملتی۔حضرت عرفانی صاحب حاضر خدمت ہوئے تو مولانا میر حسن نے چشم پر آب ہو کر فرمایا کہ افسوس ہم نے ان کی قدر نہ کی۔میں ان کے کمالات روحانی کو بیان نہیں کر سکتا۔ان کی زندگی معمولی انسان کی زندگی نہ تھی۔بلکہ وہ ان لوگوں میں سے تھی جو اللہ کے خاص بندے ہوتے ہیں۔اور دنیا میں کبھی کبھی آتے ہیں۔اپنے برادر زادہ کے جو احمدی تھے تقویٰ کے قائل تھے۔وہاں مرقوم ہے: وو میر حامد شاہ صاحب حضرت شاہ صاحب کے چچیرے بھائی کے بیٹے تھے۔یہ احمدی ہو گئے تھے وہ پہلے فوت ہوئے۔جب جنازہ تیار ہوا تو شاہ صاحب نے کہا کہ آج ہمارے خاندان سے تقویٰ اور پر ہیز گاری رخصت ہو گئی۔حامد شاہ میرے بھتیجے تھے۔ان کی ساری زندگی میرے سامنے ہے اور اس میں ایک بات بھی ایسی نہیں نکل سکتی جس پر انگلی رکھی جا سکے۔“ (ص ۲۸۷)