اصحاب احمد (جلد 11) — Page 262
262 کیا ہے لیکن چوہدری صاحب کے پیش کردہ امور کی تردید نہیں کر سکا۔اسی روز نامہ نے اس سے ہیں بقیہ حاشیہ:- اگر آپ احمدیت کو کفر خیال کرتے تو ایک احمدی کا متقی ہونا آپ کے تصور میں ہی نہیں آ سکتا تھا۔ذکر اقبال میں مرقوم ہے: " مرزا غلام احمد قادیانی اور مولوی حکیم نورالدین بھی شاہ صاحب کی بیحد عزت کرتے تھے۔اور مرزا صاحب تو ایک مدت تک سیالکوٹ میں رہ بھی چکے تھے۔ایک دفعہ کا ذکر ہے شاہ صاحب کے داما دسید خورشید انور بعارضہ دق بیمار ہو گئے۔شاہ صاحب انہیں قادیان لے گئے تا کہ حکیم نورالدین سے علاج کرائیں۔قادیان پہنچ کر مسجد میں گئے اور اس دریچے میں جا بیٹھے جہاں مرزا صاحب بیٹھتے تھے۔لوگ ان کو جانتے نہ تھے۔انہوں نے انہیں وہاں سے اٹھا دیا۔لیکن وہ پھر دریچے کے پاس ہی آبیٹھے۔مرزا صاحب آئے تو سلام کا معمولی جواب دے کر بیٹھ گئے اور متوجہ نہ ہوئے۔شاہ صاحب نے کہا غالباً آپ نے مجھے پہچانا نہیں۔مرزا صاحب نے غور سے دیکھا تو بڑی محبت اور تپاک سے ملے اور مولوی عبد الکریم سیالکوٹی کو بلا کر کہا کہ شاہ صاحب کو اچھی جگہ ٹھہراؤ۔دو باتوں کی خاص طور سے تاکید کی۔ایک یہ کہ شاہ صاحب کو صبح ہی صبح بھوک لگ جاتی ہے۔کیونکہ یہ عادتا کالج جانے سے پہلے کھانا کھا لیتے ہیں۔اس لئے ان کی حسب خواہش صبح ہی صبح کھانا دے دیا جائے۔دوسرے انہیں اچھی کتابیں پڑھنے کے لئے دی جائیں۔ساتھ ہی کہا۔صبح چائے میرے ساتھ پیئیں۔بہت خاطر تواضع کی اور جب شاہ صاحب واپس جانے لگے تو مرزا صاحب دو میل تک یکے کے ساتھ ساتھ آئے۔پکی سڑک پر پہنچ کر کہا کہ میں کچھ باتیں علیحدگی میں کرنا چاہتا ہوں۔شاہ صاحب نے ایک طرف جاکر ان کی باتیں سنیں بعد میں مفضل معلوم نہ ہوسکا کہ کیا باتیں ہوئیں۔نہ شاہ صاحب نے ہی بیان کیا۔( نوٹ :) : پکی سڑک تو تقسیم ملک کے بعد بنی ہے۔دو میل نہر ہے وہاں تک چھوڑنے گئے ہوں گے۔حضرت مرزا صاحب کی توجہ نہ ہونا عملا نہ تھا۔(مؤلف اصحاب احمد )