اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 93 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 93

93 تعمیر کے آغاز کے لئے مزید تمیں ہزار روپیہ دور کا رتھا۔حضرت چوہدری صاحب نے اس کے دسویں حصہ سے زیادہ رقم پیش کر دی۔اس وقت انجمن کا بجٹ قریباً نو ہزار روپیہ ماہوار تھا۔اس سے چوہدری صاحب محترم کی اس رقم کی اہمیت اور جلالت قدر کا احساس ہوتا ہے۔یوں سمجھ لیا جائے کہ صدرانجمن احمدیہ کے اس وقت کے ماہوار بجٹ کے ایک تہائی سے زائد کی آپ نے ادائیگی کی۔مزید برآں یہ کہ یہ رقم دیگر چندہ جات کے علاوہ تھی۔ماہوار رپورٹ میں مرقوم ہے : عمارت کے متعلق میں بہت کچھ اوپر کہہ چکا ہوں۔حضرت میر ناصر نواب صاحب نے ہسپتال کے لئے چندہ کرنے میں اردگرد کے دیہات میں اس قدر صعوبت اپنے نفس پر برداشت کر کے روپیہ جمع کیا ہے کہ ان کے اس لاہی جوش پر میں حیران ہوں۔قریب ڈیڑھ ہزار کے چندہ ہو چکا ہے۔جس میں مسجد کا چندہ بھی شامل ہے۔چونکہ بورڈنگ ہاؤس کے باہر بننے کے ساتھ ہسپتال اور مسجد کا وہاں ہونا ضروری تھا۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے ہر دو کے لئے یہ سامان پیدا کر دیا ہے اور مسجد کے لئے تو قریب تین ہزار روپیہ عنقریب وصولی ہو کر امید ہے کہ یہ کام بہت جلد شروع ہو جائے گا۔اسی سلسلہ تعمیر میں۔صاحب نے اپنی جائیداد کا حساب کر کے پندرہ سو روپیہ وصیت رپورٹ جلسہ سالانہ صدرانجمن احمد یہ قادیان ۱۹۰۸ء (ص۴) ۸۔۱۹۰۷ء کی یہ رپورٹ جلسہ سالانہ پر سیکرٹری کی طرف سے سنائی گئی تھی (ریو یو آف ریلیجنز (اردو ) بابت جون ۱۹۱۳ء میں بحساب وصیت مزیدستاون روپے ادا کرنا مرقوم ہے۔( ص۲۲۸) اس وقت اتنی رقم بھی اہمیت رکھتی تھی تبھی انفرادی طور پر اس کا ذکر کیا گیا۔آپ نے ۲۵ / دسمبر ۱۹۱۵ء کو وصیت کی۔نمبر وصیت ۸۷۱ ہے۔آپ کی وصیت میں جو جائیداد درج ہے۔اس سے آپ کی ہجرت اور نفس کشی کا مزید علم ہوتا ہے۔آپ کی جائیداد ایک لاکھ ایک سور و پیر کی ثابت ہوئی تھی۔جس کی تفصیل یہ ہے: اراضی واقعہ موضع ڈسکہ تین صد گھماؤں سے کچھ اوپر۔چار مربع واقعه چک نمبر ۸۸ جھنگ برانچ موضع حشیانہ۔ایک حویلی واراضی سفید اور چند دکانات واقعہ سیالکوٹ شہر۔ایک مکان واقعہ سیالکوٹ شہر۔جو آپ کے پاس چھپن صد روپے میں رہن تھا۔وفات پر دس ہزار ایک صد روپیہ وصول ہوا۔گو یا دسویں حصہ کی وصیت تھی۔(ماخوذ از ریکارڈ دفتر بہشتی مقبرہ)