اصحاب احمد (جلد 11) — Page 94
94 کا نقد داخل کرنے کا ارادہ کیا ہے۔جس میں سے ایک ہزار وہ بھیج بھی چکے ہیں۔اس روپے سے ان کا منشاء ہے کہ ایک کمرہ بورڈنگ ہوس کا وصیت کے مطابق انجمن کی ملکیت ہوگا۔اس سے پہلے چوہدری نصر اللہ خاں صاحب نے اسی طرح پر تین ہزار سے اوپر رو پید انجمن کو دیا۔جس سے دو کمرے بورڈنگ ہوس کے بنائے جائیں گے۔مگر ان کا کرایہ چودھری صاحب نے خود لینا پسند نہیں کیا۔بلکہ یہ مکان ابھی سے انجمن کی ملکیت ہوں گے۔اور ان کا کرایہ بھی انجمن ہی لے گی۔اگر دس پندرہ احباب اور اس طرز سے اپنی وصایا کا روپیہ جمع کرا دیں۔تو بورڈنگ ہوس قوم پر مزید بوجھ پڑنے کے بدوں ہی بن سکتا ہے۔“ ( ریویو آف ریجنز (اردو ) بابت اگست ۱۹۰۹ء ( صفحه ۳۲۰) نیز بجٹ کا ذکرص ۳۱۷ پر ہے۔) (۳) آپ نے جہاد ملکانہ کے لئے تین صد روپیہ کی پیشکش کی۔(۴) محترم با بومحمد عبداللہ صاحب (صحابی ) پنشنر سکنیلر محکمہ نہر بیان کرتے ہیں کہ جب مکرم شیخ عبدالقادر صاحب ) سابق سوداگر مل حال مربی سلسلہ احمدیہ متعین لاہور ) نے بذریعہ مکرم میاں محمد مراد صاحب سکنہ پنڈی بھٹیاں اسلام قبول کیا تو میاں صاحب کو حضرت چوہدری نصر اللہ خاں رپورٹ مشاورت ۱۹۲۳ء (۵۵) ملکانہ جہاد میں جانے کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔۲۶-۱۲-۲۳ کو جلسہ سالانہ پر آپ نے جو رپورٹ صدرانجمن سنائی۔اس میں بھی ذکر کیا کہ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بھی علاقہ ملکانہ میں بھجوایا۔(الفضل ۴/۱/۲۴ ص ۹ ک۳) سالانہ رپورٹ صدر انجمن احمد یہ بابت ۱۹۲۰ء میں ان اکیس افراد میں آپ کا نام بھی شامل ہے جن کا شکر یہ ادا کیا گیا کہ مدرسہ احمدیہ کے طلبہ کے لئے وظیفہ مقرر کیا۔ان افراد میں سے حضرت سیٹھ عبداللہ الہ دین صاحب وغیرہ پانچ افراد نے بارہ روپے ماہوار اور ( بشمول چوہدری صاحب) تین نے چھ سو روپے ماہوار کی پیشکش کی۔باقی تیرہ افراد کی پیشکش اس سے کم کی ہے۔(ص ۶۵) ย آپ ریویو آف ریلیجنز (اردو) کی اعانت بھی کرتے تھے۔مثلاً پر چہ بابت ستمبر ۱۹۰۵ء سرورق آخر ( پانچ روپے اعانت ) اور پرچہ بابت فروری ۱۹۱۸ء (صفحہ ۸۴) میں اعانت کے متعلق ذکر آتا ہے۔