اصحاب احمد (جلد 10) — Page 413
413 کہا کہ میں مقدمہ نہیں کرنا چاہتا میرا مقدمہ آسمان پر دائر ہے۔اس نے مجھے بری کر دیا اور مجھے مبارک باد دی۔(۷۴ ) میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں اس کی طرف سے ہوں اور مفتری اور کذاب نہیں۔میں قسم دیتا ہوں کہ مجھے ایسا شخص دکھاؤ جو باجود ہر روز کذب و افتراء کے موید من اللہ ہو۔(۷۵) ”میرے نشانات تھوڑے نہیں ایک لاکھ سے زیادہ انسان میرے نشانوں پر گواہ ہیں۔اور زندہ ہیں۔میرے انکار میں جلدی نہ کرو ورنہ مرنے کے بعد کیا جواب دو گے ؟ " (24) لدھیانہ سے حضور کی مراجعت کے بارے منشی صاحب تحریر کرتے ہیں۔” جب میں صبح کو گیا تو معلوم ہوا کہ دوسرے دن صبح کی کلکتہ میں میں حضور کی گاڑی لگائی جاوے گی۔مفتی محمد صادق صاحب اس وقت اس کی اطلاع دینے کے واسطے جارہے تھے۔میں نے ان سے کہا کہ بجائے اسکے اگر گیارہ بجے کی ٹرین میں روانگی ہو تو بہتر ہے۔کہ چھوٹے اسٹیشنوں پر جو لوگ زیارات کے لئے آئیں وہ بھی محروم نہ جائیں گے۔مفتی صاحب نے فرمایا کہ اب طے ہو چکا تبدیلی نہیں ہوسکتی۔میں نے اطلاع کرائی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام تشریف لے آئے۔میں نے عرض کیا کہ ڈاک ( میل ٹرین۔ناقل ) کے ذریعہ حضور نے سفر کا ارادہ فرمایا ہے وہ تیز چلتی ہے جو حضور کی طبیعت پر گراں گزرے گا اور چھوٹے اسٹیشنوں پر وہ ٹھہرتی نہیں جو لوگ آئیں گے محروم از زیارت رہیں گے اس کے بعد ہی مسافر گاڑی جاتی ہے ( جو ہر ایک اسٹیشن پر ٹھہرتی ہے۔) وہ مناسب معلوم ہوتی ہے۔فرمایا بہت درست ہے اسی میں جانا چاہیئے ( ہمیں معلوم نہیں تھا ) مفتی صاحب کو بلا ئیں مفتی صاحب آئے فرمایا کہ میرا نام لے کر ) یہ ٹھیک کہتے ہیں ڈاک تیز چلتی ہے وہ مجھے پسند نہیں اور وہ چھوٹے اسٹیشنوں پر ٹھہرتی نہیں اس کے بعد جو گاڑی جاتی (ہے) وہ بہتر ہے۔میں نے دیکھا کہ جو الفاظ میں نے عرض کئے تھے وہ ہی دہرا دئیے۔جب تجویز ہوئی ہوگی گاڑیوں کے اوقات سامنے ہوں گے۔مجھ سے کوئی نئی معلومات حاصل نہیں ہوئیں۔مگر ہر ایک کی خواہش کو پورا فرماتے تھے۔ان کے نزدیک ایک ہی بات تھی کہ پہلے روانہ ہوں یا بعد میں بہت خوش ہوا کہ میری رائے کو (حضور نے ) پسند فرمایا اور اس واقعہ نے میرے ایمان پر بھی بڑا اثر کیا ( قلمی کا پی صفحہ ۵۰،۴۹) اس روز سارادن میں حضور کے پاس رہا۔شام کو حضور سیر کے لئے تشریف لے گئے تب بھی میں ہمراہ حضرت حکیم دین محمد صاحب مقیم دار الرحمت وسطی ربوه بیان کرتے ہیں کہ دہلی کے سفر کے دوران ۱۹۰۵ء سے مراجعت پر حضور نے لدھیانہ میں قیام فرمایا اور وہاں تقریر بھی فرمائی۔اس وقت وہاں منشی حبیب الرحمن صاحب اور دیگر صاحبان سے میری ملاقات ہوئی۔(باقی حاشیہ اگلے صفحہ پر ) ☆