اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 414 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 414

414 تھا۔آگے جا کر مسجد کے قریب بہت ساری خلقت آپ کو دیکھنے کی غرض سے جمع تھی میں نے اس وقت حضور کی خدمت میں عرض کیا کہ حضور ! یہ سب لوگ حضور کے دیدار کے متوالے ہیں۔وہاں ایک ٹوٹی سی بیچ مسجد کے پاس ہی پڑی تھی حضور و ہیں اتر کر پیچ پر ہی بیٹھ گئے اور میرے ساتھ باتیں کرتے رہے اور پھر روانہ ہوئے۔میرا ارادہ ہوا کہ صبح کو سویرے جو گاڑی جاتی ہے اس میں جا کر حاجی پور اور پھگواڑہ اطلاع کر دوں گا اور راستہ کے واسطے کھانا بھی کسی قدر تیار کروا دوں گا۔کیونکہ کوئی دو گھنٹہ کا وقفہ تھا۔اس نیت سے میں روانگی کے دن صبح کو فرودگاہ پر آیا اور حضور کو اطلاع دے کر خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ میں اس گاڑی سے حاجی پور جاؤں گا۔اگر اجازت ہو تو کسی قدرکھانا تیار کر الاؤں۔فرمایا کہ جس وقت ہم یہاں سے روانہ ہوں گے وہ کھانے کا وقت ہے یہاں کی جماعت کھانا کھلا کر روانہ کرے گی۔اس لئے ضرورت معلوم نہیں ہوتی غرض ( میں ) اس ٹرین سے حاجی پور آ گیا۔اور پھگوڑاہ میں عام طور پر اطلاع کرادی اور سب لڑکوں کو اسٹیشن پر ساتھ لے آیا گاڑی آئی تو میں نے ایک ایک کا حضور سے تعارف کرایا۔اور خود مع لڑکوں کے ساتھ جالندھر چھاؤنی تک گیا۔(قلمی کا پی صفحه ۵-۵۱) میں ہر ایک بچے کو حضور کی خدمت میں پیش کرتا رہا۔حضور بچوں کو شفقت سے پیار فرماتے رہے۔جب عزیز مسعود احمد کو پیش کیا تو وہ بہت دبلا پتلا اور چھوٹا تھا۔حضور نے خود اس کو اٹھا کر اپنی ران پر بٹھا لیا اور شفقت سے اس کے سر پر پیار کرتے رہے۔میں نے عرض کیا کہ حضور اس کا نام مسعود احمد ہے یہ اپنے بھائیوں سے لڑتا رہتا ہے کہ ان کے نام تو رحمان پر رکھے ہیں۔اور میرا نام ان سب سے جدا ”احمد“ پر رکھ دیا ہے۔حضور نے مسعود احمد کو پیار کرتے ہوئے فرمایا۔وو اچھا! یہ بات ہے تو ان کا نام مسعود الرحمن رکھ دو۔“ سواس دن سے ان کا نام مسعود الرحمن ہو گیا۔پھر میں مختلف امور پر حضور سے باتیں کرتا رہا اور جالندھر چھاؤنی اسٹیشن سے اتر کر دوسری گاڑی سے واپس آکر ( ہم ) حاجی پور پہنچ گئے ( بیان ہذا بواسطه شیخ عبدالرحمن صاحب) وہاں ( جالندھر چھاؤنی ریلوے اسٹیشن پر گاڑی دیر تک کھڑی رہی فرمایا کہ اگر ہم آپ کو کھانا لانے کے واسطے کہہ دیتے تو اچھا تھا کیونکہ وہاں (لدھیانہ ) سے کھانا پلا کھائے روانگی ہوئی ہے۔۔چونکہ اہل بقیہ حاشیہ سابقہ اس وقت کے احباب لدھیانہ میں سے حضرت قاضی خواجہ علی صاحب اور حضرت ماسٹر قادر بخش صاحب ٹیچر گورنمنٹ ہائی سکول والد حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب درڈ مجھے یاد ہیں۔اس لیکچر میں میرے ساتھ میرے چھوٹے بھائی ملک نیاز محمد صاحب (یعنی خاکسار مؤلف اصحاب احمد کے والد ماجد ) بھی شامل ہوئے تھے۔