اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 412 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 412

412 اس نے موقعہ عطا کیا جب میں اس شہر سے گیا تھا تو میرے ساتھ چند ہی افراد تھے اور لوگ مجھے مطر و دو مخذول سمجھتے تھے اور یہ گمان کرتے تھے کہ تھوڑے دنوں میں یہ جماعت منتشر ہو جائے گی۔اور اس سلسلہ کا نام ونشان مٹ جائے گا۔مجھ پر فتوای تکفیر جاری کیا گیا۔اولیں فتوای کفر اسی شہر کے چند مولویوں نے دیا۔وہ کافر کہنے والے موجود نہیں۔مجھے اللہ تعالیٰ نے زندہ رکھا۔اور جماعت کو تین لاکھ تک بڑھایا۔جیسے کفار حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دلائل سے عاجز آ گئے تو قتل وغیرہ کے منصوبے کرنے لگے اسی طرح ایک پادری کے میرے خلاف اقدام قتل کے مقدمہ میں مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے میرے خلاف شہادت دی لیکن اللہ تعالیٰ نے جو ہمیشہ اپنے بندوں کی مددکرتا ہے، میری حمایت کی۔پچیس سال پہلے میں گمنام تھا۔اس وقت اللہ تعالیٰ نے مجھے الہام کیا تھا کہ لوگ دور دراز ممالک سے اور کثرت سے تیرے پاس آئیں گے اور ان کی مہمان نوازی کے ہر قسم کے سامان بھی آئیں گے ان سے کج خلقی نہ کرنا۔اور ان کی کثرت دیکھ کر تھک نہ جانا۔حالانکہ (21)66 میں اس زمانہ میں اکیلا تھا اور مجھے لوگوں کی ملاقات سے نفرت تھی۔(۷۱) قوم نے میری مخالفت میں نہ صرف جلدی کی بلکہ بہت بے دردی بھی کی۔اور مسئلہ وفات مسیح کی وجہ سے مجھے کا فر ٹھہرایا، دجال قرار دیا، قبرستانوں میں احمدیوں کی تدفین سے روکا احمدیوں کے اموال لوٹنے کو اور احمدیوں کی عورتوں کو بغیر نکاح گھر میں رکھ لینے کو اور احمد یوں کوقتل کر دینے کو جائز قرار دیا۔حالانکہ وفات عیسی قرآن مجید وغیرہ سے ثابت ہے۔(۷۲) اور غلبہ اسلام کا حربہ موت مسیح ہے۔(۳) کپتان ڈگلس ڈپٹی کمشنر گورداسپور کے سامنے ڈاکٹر مارٹن کلارک عیسائی کا دائر کرده استغاثہ میرے خلاف اقدام قتل کا پیش ہو ا شد و مد سے میرے خلاف شہادتیں پیش ہوئیں اور مجھے پھانسی یا عبور دریائے شور ( عمر قید جزائر انڈیمان میں ) سزا ملنے کی صورت تھی۔اور کپتان موصوف کے پاس میرے خلاف سفارشات بھی آئیں اور مستغیث اس کا ہم مذہب تھا لیکن اس نے اس کی ناجائز طرفداری نہ کی اور سمجھ لیا کہ یہ استغاثہ جعلی ہے۔چنانچہ عبدالحمید نے جس سے میرے خلاف بیان دلوایا گیا تھا، اس کے جعلی ہونے کا اقرار کیا۔کپتان موصوف نے مجھے کہا کہ آپ ان عیسائیوں پر مقدمہ کر سکتے ہیں لیکن میں نے