اصحاب احمد (جلد 10) — Page 362
362 اشتہار شائع کیا کہ میں مباحثہ کرنے کو طیار ہوں۔پھر مولوی صاحب کو امرتسر یا لا ہور سے خط آیا کہ خواہ تم یا مرزا صاحب یا کوئی اور وفات عیسی کے بارے ایک آیت یا متعدد آیات پیش کرے میں فی آیت پچاس روپے انعام دوں گا۔حضرت اقدس کے مشورہ سے مولوی صاحب نے جواب دیا کہ ہم اڑ ہائی درجن آیات پیش کریں گے۔آپ اپنے اقرار کے مطابق پندرہ سور و پیہ لاہور کے بنک میں جمع کرا کے رسید بھجوا دیں لیکن جواب ندارد۔پھر خود مولوی صاحب نے ایک اشتہار شائع کیا کہ جو شخص حیات مسیح کے بارے قرآن شریف کی آیت صریح اور حدیث صحیح پیش کرے تو فی آیت اور فی حدیث دس روپے دیئے جائیں گے اور روپے پہلے بنک میں جمع کرادئیے جائیں گے لیکن اشتہار کے بعد مولویوں کی طرف سے خاموشی رہی۔مولوی غلام نبی صاحب حضرت اقدس کے ہی ہور ہے اور ان کا بحر ایسا کھلا کہ جو کوئی آتا اس سے گفتگو اور مباحثہ کے لئے آمادہ ہو جاتے اور پہلے خود ہی گفتگو کرتے۔مولوی صاحب حضرت اقدس کا چہرہ دیکھتے رہتے۔حضرت اقدس نے إِذَا زُلزلَتِ الأرضُ کے متعلق تفسیراً کچھ فرمایا تو مولوی صاحب وجد میں آگئے اور کہنے لگے کہ یہ ہے فہم قرآن ان کی عشقیہ حالت ترقی کرتی گئی۔حضرت اقدش اندرونِ خانہ تشریف لے جاتے تو مولوی صاحب کی حالت بیقراری اور دیوانگی کی سی ہو جاتی۔اور حضرت اقدس کے آنے پر آپ کو چین آتا۔مولوی صاحب کو سابقاً مخالفت کرنے کی وجہ سے بے چینی تھی، وہ بار بار کہتے کہ اتنے روز جو میری طرف سے مخالفت ہوئی یا میری زبان سے گستاخانہ الفاظ نکلے قیامت کے روز میں اللہ تعالیٰ کو کیا جواب دوں گا۔پھر استغفار کرتے اور سخت بے قرار اور ندامت سے روتے تھے۔مولوی صاحب کو خط آیا کہ جلد آ جائیں ورنہ ملازمت جاتی رہے گی لیکن مولوی صاحب نے کہا کہ بیعت میں شرط دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کی ہے، مجھے ملازمت کی پرواہ نہیں۔ایک روز اس کا ذکر ہونے پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ خود ملازمت ترک کرنا ناشکری ہے آپ کو ملازمت پر ضرور چلے جانا چاہیے۔چنانچہ دوبارہ بیعت کر کے مولوی صاحب مجبور روانہ ہو گئے۔لیکن پھر ہنستے ہوئے واپس آئے کہ ریل گاڑی جا چکی تھی۔دوسری گاڑی کے آنے میں وقت تھا۔میں نے کہا کہ جتنی دیر اسٹیشن پر لگے، اتنی دیر حضرت کی صحبت میں رہوں تو بہتر ہے۔یہ صحبت کہاں میسر ؟ حضور نے فرمایا۔جزاک اللہ یہ خیال بہت اچھا ہے۔اس میں کچھ حکمت الہی ہے۔یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ دوسرا خط آیا کہ اپنی ملازمت پر حاضر ہو جائیں یا درخواست رخصت بھیج دیں میں کوشش کر کے رخصت دلوا دوں گا۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ ریل کے نہ ملنے میں یہی حکمت الہی تھی۔حضور کے ارشاد پر مولوی