اصحاب احمد (جلد 10) — Page 361
361 ادھر مولوی غلام نبی صاحب مکان کے اندر خاموش بیٹھے تھے اور انہوں نے پوچھا کہ حضرت! آپ نے وفات مسیح کا مسئلہ کہاں سے لیا ہے؟ فرمایا۔قرآن شریف، حدیث اور علمائے ربانی کے اقوال سے (مولوی صاحب کے دریافت کرنے پر ) دو آیات یا عیسی انتی متر فیک اور فلما تو فیتَنِی والی دکھا ئیں اور بتایا کہ توقیت اور یو فی دو الگ الگ باب سے ہیں آپ غور کریں۔مولوی صاحب دو چار منٹ سوچ کر کہنے لگے کہ معاف فرمائیے آپ نے جو فر مایا وہ صحیح ہے قرآن مجید آپ کے ساتھ ہے۔حضور نے پوچھا کہ جب قرآن مجید ہمارے ساتھ ہے تو آپ کس کے ساتھ ہیں۔اس پر مولوی صاحب کے آنسو جاری ہو گئے۔اور ان کی پہچکی بندھ گئی اور انہوں نے عرض کیا کہ یہ خطا کار بھی حضور کے ساتھ ہے۔جب دیر ہوگئی تو لوگ آواز پر آواز دینے لگے کہ مولوی صاحب ! باہر تشریف لائیے ! پھر بھی مولوی صاحب نے جواب نہ دیا تو لوگ بہت چلائے۔مولوی صاحب نے کہلا بھیجا کہ میں نے حق پالیا۔اب میرا تم سے کچھ کام نہیں۔اگر تم اپنا ایمان سلامت رکھنا چاہتے ہو تو تائب ہو کر اس امام کو مان لو۔میں اس امام صادق سے کس طرح الگ ہوسکتا ہوں جو اللہ تعالیٰ کا اور حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا موعود ہے۔جس کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام بھیجا۔سلام کا ذکر کر کے مولوی صاحب نے حدیث پڑھی پھر حضرت اقدس کی طرف متوجہ ہو کر دوبارہ پڑھی اور پھر عرض کیا کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق میں اس وقت حضور کا سلام کہتا ہوں اور پھر دوبارہ بھی سلام کیا۔حضرت اقدس نے اس وقت عجیب آواز سے وعلیکم السلام فرمایا کہ دل سنے کی تاب نہ لائے اور مولوی صاحب نے کہا کہ اولیاء وعلماء امت اس انتظار میں چل بسے اللہ تعالیٰ کا وعدہ پورا ہوا۔یہ غلام نبی اس کو کیسے چھوڑے۔یہی مسیح موعود اور امام مہدی موعود ہیں۔اور مسیح ابن مریم مر گئے بلا شک مر گئے۔وہ نہیں آئیں گے آنے والے آگئے ، آگئے بے شک وشبہ آگئے۔لوگوں کو مولوی صاحب نے کہا کہ تم جاؤ یا میری طرح حضرت اقدس کے مبارک قدموں میں گرو تا کہ نجات پاؤ۔منتظر لوگوں کو جب یہ جواب ملا تو کیا مولوی ملا اور کیا خاص و عام سب کی طرف سے کافر کافر کا شور بلند ہوا اور وہ گالیوں کی بوچھاڑ کرتے ہوئے منتشر ہو گئے۔پھر مولویوں کی طرف سے مولوی غلام نبی صاحب کو مباحثہ کے پیغام آنے لگے اور بعض کی طرف سے پھسلانے کے لئے کہ ہماری ایک دو بات سن جاؤ لیکن مولوی صاحب نے جوابا یہ شعر پڑھا۔حضرت ناصح جو آئیں دیدہ و دل فرش راہ کوئی مجھ کو یہ تو سمجھائے کہ سمجھائیں گے کیا مولوی صاحب نے مباحثہ کرنا قبول کر لیا لیکن مباحثہ کے لئے کوئی نہ آیا۔پھر مولوی صاحب نے ایک