اصحاب احمد (جلد 10) — Page 338
338 حضرت عرفانی صاحب کو احباب کپورتھلہ نے مزید یہ بھی بتایا کہ ہم حضور کو جشن ہال دکھانے کے لئے لے گئے اس وقت مہا راجہ اور انگریز مرد اور عورتیں کھیلنے میں مصروف تھے اور اندر جانے کی اجازت نہ تھی لیکن مہا راجہ صاحب کو حضرت صاحب کی آمد کا علم ہوا تو انہوں نے اجازت دیدی حضور اندر تشریف لے گئے لیکن حضور پر ایسی حالت استغراق طاری تھی کہ حضور ایک طرف کھڑے رہے اور کسی چیز کی طرف چنداں توجہ نہ کی اور مہاراجہ صاحب نے دور سے حضور کو دیکھ کر اپنا وزیر بھیجا تا کہ حضور سے ملاقات کرے اور اس نے تین دفعہ سلام کیا لیکن آپ اسی حالت میں محور ہے اور اس کی طرف توجہ نہ ہوئی (۲) مطابق بیان حضرت منشی عبدالرحمن صاحب حضرت اقدس دوسری بار کپور تھلہ سلسلۂ بیعت شروع ہو جانے کے بعد تشریف لے گئے اور تین دن قیام فرمایا۔قیام حضرت منشی گو ہر علی صاحب افسر ڈاک خانہ کے مکان پر رہا جو کہ مطابق بیان حضرت عرفانی صاحب جالندھر کے رہنے والے تھے۔السابقون الأولون میں سے تھے۔اور حضور سے ان کا تعلق حضرت چودھری رستم علی صاحب کے ذریعہ ہوا تھا۔(۳) حضرت منشی عبدالرحمن صاحب کے بیان کے مطابق حضرت اقدس تیسری دفعہ کپورتھلہ دعوای مسیحیت کے بعد تشریف لے گئے تھے۔میاں سردار خان صاحب کے مکان میں حضور نے قیام فرمایا جو موصوف نے خالی کر دیا تھا۔دس پندرہ روزہ قیام کے دوران میر نواسہ حافظ محمود الحق مکان کی بالائی سیڑھی سے گر کر لڑھکتا ہوا نیچے تک آیا۔حضور سے کسی نے عرض کیا کہ ان کا نواسہ اس طرح اوپر کے مکان سے نیچے آپڑا ہے حضور نے فرمایا کہ اس کو چوٹ نہیں لگی۔اسے لے آؤ۔دیکھا تو واقعی اسے کوئی چوٹ نہیں لگی تھی۔منشی حبیب الرحمن تحریر کرتے ہیں کہ " حضرت مسیح موعود علیہ السلام (جب) تیسری دفعہ کپورتھلہ تشریف لائے ، یہ ہماری دیرینہ درخواست الحکم ۲۸ رمئی ۱۹۳۵ء ( صفحه ۴ کالم ۲) حضرت مفتی محمد صادق صاحب کی طرف سے مختصراً اس دفعہ کی تشریف آوری کا ذکر بدر یکم اکتو بر ۱۹۰۸ء ( صفحہ ۷ کالم او۲) میں بھی ہے۔☆ تینوں سفروں کے کوائف جو بلا حوالہ اوپر درج ہوئے ہیں۔وہ حیات احمد جلد سوم (صفحہ ۲۲۶،۲۲۵،۲۲۲،۲۲۱) اور یویو آف ریلیجنز (اردو) بابت جنوری ۱۹۴۱ء ( صفحہ ۱۵،۱۴) سے اخذ کردہ ہیں ) حضور فروری ۱۸۹۲ء میں دوسرے ہفتہ میں سیالکوٹ تشریف لے گئے پھر وہاں سے کپورتھلہ ( تیسری بار ) تشریف لے گئے میاں سردار خان صاحب حضرت میاں محمد خاں صاحب کے بھائی تھے۔