اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 339 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 339

339 تھی۔حضرت مولوی نورالدین صاحب مرحوم خلیفہ اول اور حضرت مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم بھی ہمراہ تھے۔حضور کو مع اہل بیت خاں صاحب منشی محمد خاں صاحب مرحوم کے مکان میں ٹھہر آیا تھا۔انہی کا ایک قریب ( کا) مکان بطور مردانہ بیٹھک استعمال ہوتا تھا۔میرے مسجد کے قریب کے مکانات میں حضرت مولوی صاحبان اور دوسرے لوگ فروکش تھے۔ہمارا جو مکان تھاس کے صحن میں فرش پر اکثر بیٹھ کر حضور ) تقریر فرماتے تھے۔اور تلاوت فرماتے تھے۔ہمارے ایک مکان میں کھانا تیار ہوتا تھا۔اس وقت ریل نہ تھی کرتار پور سے اتر کر کپورتھلہ جو سات میل کے فاصلہ پر ) ہے جانا پڑتا تھا۔استقبال کے واسطے میں اور چند دوست کرتار پور گاڑیاں بگھیاں لے کر گئے۔سہ پہر کو ایک دن جلسہ عام تھا۔اکثر اہلکار ہندو مسلمان حضور کی ملاقات کو آئے۔کثرت سے آدمی جمع تھے (حضور کے بیٹھنے کے لئے سرکاری فراشخانہ سے دریاں، سفید فرشی چاند نیاں، قالین وغیرہ منگوائے گئے تھے۔اعلیٰ حکام ریاست جن میں ہندو افسران کی اکثریت تھی ، اپنی بگھیوں میں آنے لگے تھے ) ایک شخص مولوی عبدا لقادر جو بیگوال کا رہنے والا تھا۔وہ بھی آیا اور بیٹھ گیا۔حضور تقریر فرمارہے تھے۔جو وجود باری تعالیٰ پر تھی اور لوگ ہمہ تن متوجہ تھے کہ حضور کی زبان سے لفظ ” حلیہ بہ ضَمّ حَ نکلا۔عبدالقادر نے کہا کہ یہ لفظ ”حلیہ ہے۔حضور نے فرمایا کہ عام طور پر حلیہ ہی مشہور ہے۔غلط العام صحیح لوگوں نے عبدالقادر کور وکا کہ نہ بولومگر وہ نہ رکا بولا ( کہ ) آپ عام نہیں ہیں آپ خاص ہیں۔فرمایا کہ میں عربی میں گفتگو نہیں کر رہا ہوں ، اردو میں بول رہا ہوں، اس پر بھی وہ باز نہ آیا ہر طرف سے آواز اٹھی (کہ) چپ رہو۔میر اوہ مکان تھا۔میں نے ایک شخص کو کہا کہ اس کو۔۔۔۔۔باہر نکال دو ایسا کرنے پر امن ہوا۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ مجلس میں سے ایک جن نکل گیا۔(حضور کی ) تقریر پھر شروع ہوئی (اس وقت کے لوگ بہت علم دوست تھے اور یہ شوق علمی باتوں سے محظوظ ہوتے تھے۔اور حضور کی تقریروں سے انہوں نے بہت ہی اچھا اثر لیا تھا۔اور بہت شکر گزار ہوئے تھے ) حضور نے بعض کو ٹھیوں کی سیر بھی فرمائی،، ( قلمی کا پی صفحہ ۶۷ تا ۶۹ ) * ☆ (۱) حِلية لانسان : ما يُرى من لونه وظاهره دهيته (المنجد) ☆ (ب) لیکن اردو میں حُلیہ ہی استعمال ہوتا ہے۔چنانچہ فرہنگ آصفیہ میں جو چار جلدوں میں خان صاحب مولوی سید احمد دہلوی نے تالیف کی ہے۔اور دہلی میں ۱۹۷۴ء میں ترقی اردو بورڈ ایڈیشن میں درج ہے۔حلیہ (ح کی ضمہ کے ساتھ ) ح (یعنی اصل اس کا عربی معنی لکھا ہے۔”صورت چہرہ۔نشان × والے حصہ کا اضافہ مولوی محب الرحمن صاحب کے واسطے سے حاصل شدہ روایت سے کیا گیا ہے۔