اصحاب احمد (جلد 10) — Page 337
337 ہم لوگوں نے استقبال کا بڑا انتظام کیا تھاوہ انتظام کسی کام نہ آیا اور ہم مایوس ہوکر چلے آئے ) پھر اس کے بعد حضور جلدی ( خاموشی کے ساتھ ) بغیر اطلاع دیئے ایکا ایکی تشریف لے آئے اور یکہ خانہ سے اتر کر اس کے قریب واقع مسجد مفتح والی میں چلے گئے۔ان دنوں ابھی کپورتھلہ ریل نہیں آئی تھی۔( یہ سفر حضور نے محض ایفائے عہد کے طور پر کیا تھا ) مسجد سے حضور نے ملا کو اپنی آمد کی اطلاع منشی اروڑا صاحب یا مجھے دینے کے لئے بھیجا۔اس نے ہمیں کچہری میں اطلاع دی۔یہ سن کر منشی اروڑا صاحب نے بڑے تعجب انگیز ناراضگی کے لہجہ میں کہا کہ دیکھو تو سہی۔بھلا تیری مسجد میں مرزا صاحب نے آ کر ٹھہر نا تھا۔میں نے کہا کہ چل کر دیکھنا تو چاہیئے۔(حضرت اقدش نمود و نمائش کو تو پسند نہیں کرتے۔ممکن ہے آہی گے ہوں پھر منشی صاحب جلدی سے پگڑی باندھ کر چل پڑے ( ہم دوڑتے گئے دیکھا کہ حضور مسجد میں ( چٹائی پر لیٹے ہوئے ہیں۔اور حافظ حامد علی صاحب جو ساتھ آئے تھے حضور کے پاؤں دبا ر ہے ہیں۔اور پاس ایک پیالہ اور چمچہ پڑا ہے جس سے معلوم ہوا کہ شاید آپ نے دودھ ڈبل روٹی کھائی تھی ( حضور ہم سے نہایت محبت و شفقت سے ملے ہم نے عرض کیا کہ حضور نے اطلاع بھی نہیں دی تو ☆ فرمایا کہ آنا ہی تو تھا۔پھر ہم نے کہا کہ حضور کو بڑی تکلیف ہوئی ہوگی۔فرمایا نہیں کوئی تکلیف نہیں ہوئی ) پھر ہم حضور کو اپنے ہمراہ لے آئے اور آپ کو اس مکان میں ٹھہرایا جو حملہ قائم پورہ میں بعد میں پرانا ڈاکخانہ رہا ہے۔کر نیل محمد علی خان صاحب اور بہت سے لوگ اور علمائے کپورتھلہ میں سے مولوی غلام محمد صاحب وغیر ہم وہاں حضور کے پاس جمع ہو گئے۔حضور کچھ تصوف کے رنگ میں تقریر فرماتے رہے۔حاضرین بہت متاثر ہوئے۔مولوی غلام محمد صاحب آبدیدہ ہو گئے۔اور انہوں نے بیعت کرنے کے لئے ہاتھ بڑھائے لیکن حضور نے انکار کیا۔بعد میں مولوی مذکور سخت مخالف رہا۔غرض حضور ایک دن قیام کر کے قادیان تشریف لے جانے کے لئے روانہ ہوئے۔میں منشی اروڑ ا صاحب اور محمد خان صاحب حضور کو کرتار پور اسٹیشن تک چھوڑنے گئے۔کوئی اور ساتھ گیا ہو تو مجھے یاد نہیں۔اسٹیشن پر حضور کے ساتھ ہم نے ظہر و عصر کی نمازیں جمع کر کے ادا کیں۔بعدہ میں نے پوچھا کہ کس قدر مسافت پر نماز جمع کی جاسکتی ہے۔اور قصر کی جاسکتی ہے۔حضور نے فرمایا کہ انسان کی حالت پر منحصر ہے۔ایک شخص نا طاقت اور ضعیف العمر ہو تو پانچ چھ میل پر بھی قصر کر سکتا ہے۔☆ الحکم ۲۸ مارچ ۱۹۳۴ صفحہ ۳ میں مندرجہ بیان منشی روڑ صاحب سے منشی ظفر احمد صاحب کے بیان میں خطوط وحدانی والے حصہ کا اضافہ کیا گیا ہے۔× والے الفاظ خاکسار مؤلف کی طرف سے وضاحت کے لئے اضافہ ہیں