اصحاب احمد (جلد 10) — Page 324
324 شخص ) احتیاط نہ کرے تو سلامتی ایمان کی ناممکن ہے۔اشتہارات اور آدازہ تصنیفات سید احمد کے دیکھ سُن کر میں نے ایک دوست کو مشورہ دیا تھا کہ تصنیفات اس کی منگا لینی چاہیں تا کہ دیکھ کر اصل بات سے واقفیت پیدا ہوگی۔چنانچہ اس نے اپنا روپیہ صرف کیا۔جب ان کو دیکھا، معلوم ہوا کہ یہ جانب دین سے بالکل پردہ ڈالتی ہیں۔اور ظلمت کو زیادہ کرتی ہیں اور جیفہ دنیا کی طرف زور سے پکڑ کر زنجیر نگین ڈال کر کھینچے لئے جاتی ہیں۔اس واسطے بندہ کو افسوس اس مشورہ سے ہوا۔جس دوست کو مشورہ دیا تھا اس کی تعلیم اور صحبت مستعد ہوگئی تھی۔اس نے اس کی طرف توجہ مفرط کر لی اور اس کے مسائل پر قائم ہو گیا۔چونکہ مومن ایک سوراخ سے دوبارہ منیش نہیں کھاتا۔اور چھاچھ کو بھی دودھ کی طرح گرم سمجھ کر پھونک پھونک کر نوش کرتا ہے۔اس واسطے آپ بقیہ حاشیہ ثابت ہونے سے نیچے سرمہ چشم آریہ کے ذکر سے پیدا شدہ اشکال بابت تاریخ مکتوب بھی حل ہو جاتا ہے۔گویا یہ معلوم ہوتا ہے کہ گزشتہ حاشیہ میں جس مکتوب کی صحیح تاریخ ۲۳ / دسمبر ۱۸۸۶ء بتائی گئی ہے۔اس کا جواب حاجی صاحب کی طرف سے نہ آنے پر بطور یاد دہانی حضرت اقدس نے یہ مکتوب رقم فرمایا جس کی صحیح تاریخ ۳ یا ۱۳ جنوری ۱۸۸۷ء ثابت ہوتی ہے۔(4) اس مکتوب میں جس کی صحیح تاریخ جنوری ۱۸۸۷ء کی بتائی گئی ہے۔حضرت اقدس تحریر فرماتے ہیں کہ آپ (حاجی صاحب) نے طبع براہین احمدیہ کے التواء کے بارے اعتراض کیا ہے کیونکہ میرے ساتھ آپ کا اس کتاب کی خرید وفروخت کا تعلق ہے۔حضور کے مکتوب سے یہی ظاہر ہے کہ حضور حاجی صاحب کو خریدار سمجھتے تھے۔لیکن اس کے بعد حاجی صاحب نے جو خط حضور کی خدمت میں تحریر کیا ہے اس میں صاف درج ہے کہ انہوں نے براہین احمدیہ نہیں خرید کی تھی۔اور اب چاہتے ہیں کہ حضور یہ کتاب ارسال فرما ئیں۔گویا حضور اعتراض کی وجہ سے سمجھے ہوں گے کہ حاجی صاحب خریدار ہیں۔تبھی اس شد و مد سے حاجی صاحب نے اعتراض کیا ہے۔(۷) حاجی صاحب کے جس مکتوب کی تاریخ ۲۲ جنوری ۱۸۸۵ طبع ہوئی ہے۔اس میں حضرت اقدس کو حاجی صاحب نے مجمع فضائل و کمالات دینی قرار دیا ہے اور حضور کی روحانی اور باطنی قوت کی بہت مدح و توصیف کی ہے۔اور اپنی گزشتہ باتوں کی معافی نہایت عاجزی سے حضور سے طلب کی ہے اور براہین احمدیہ کی افادیت کی بہت تعریف کرنے ہوئے اس کی جلد بھیجوانے کے لئے عرض کیا ہے۔یہ باور نہیں کیا جاسکتا کہ حاجی صاحب کے ایسے خط کے چند دن بعد حضرت اقدس ان کو رقم فرماتے کہ آپ چاہیں تو براہین احمدیہ (باقی اگلے صفحہ پر )