اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 325 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 325

325 کے اشتہار کو بھی دیکھ کر احتیاطاً اسی قسم کا سمجھا تھا۔اب اتفاقیہ دو جلدیں سویم و چهارم کتاب آپ کی دستیاب ہوگئیں۔اور اوّل سے آخر تک مطالعہ میں آگئی ہیں اور اس عاجز کو وہ ایسی بر خلاف تصنیفات سید احمد سے معلوم ہوئی ہیں گویا زمین آسمان کا فرق ہے یعنی وہ دنیا کی طرف لے جانے کا زور دیتی ہیں۔اور آپ کی کتاب دین کی طرف لے جاتی ہے۔وہ خیالات جو دین اور اہل دین ،سابقین اولین اور متأخرین اور محققین کی جانب سے بجبر منہ پھیرے دیتے ہیں۔اور شکوک اور توہمات، دین اور قرآن شریف اور نبوۃ صلی اللہ علیہ وسلم پر اثر شیاطین اور دجا لان سے کسی کے دل میں کسی وقت پیدا ہوتے ہیں۔ان کی بڑے زور شور سے بیخ کنی کرتی ہے۔اور انوار اور برکات کے نزول کا سبب ہوتی ہے۔۔بقیہ حاشیہ: - کے التواء کی وجہ سے قیمت واپس لے سکتے ہیں اور حضور خَسِرَ الدُّنيا والآخرة کے مصداق لوگوں کا ذکر فرماتے۔نتیجہ یہی معلوم ہوتا ہے کہ طلب عفو والا خط حاجی صاحب کا بعد کا ہے۔جواشی کا جن میں حاجی صاحب کی چٹھی مؤرخہ ۲۲ / جنوری ۱۸۸۵ء کے بارے حاشیہ آگے آئیگا خلاصہ یوں ہے: خلاصه مضمون مکتوب تاریخ مطبوعہ (۱) التوائے براہین احمدیہ کے اعتراض ۲۳ دسمبر ۱۸۸۴ء کے بارے حضرت اقدس کا مکتوب (ب) اپنے مکتوب بالا کا جواب حاجی |۴ رفروری ۱۸۸۵ء صاحب کی طرف سے نہ آنے پر حضور کی طرف سے یاددہانی۔(ج) حاجی صاحب کا خط بابت معافی ۲۲ / جنوری ۱۸۸۵ء صحیح تاریخ عیسوی مع تاریخ بکرمی ۲۳ رو سمبر ۱۸۸۶ء (مطابق ۱۳ پوس ۱۹۴۳ء) ۳ یا ۱۳ار جنوری ۱۸۸۷ء ( ۱۳ جنوری مطابق ۴ / ماگ ۱۹۴۳ء) ۲۲ یا ۲۴ جنوری ۱۸۸۷ء (مطابق ۱۳ یا ۱۵ار ماگ ۱۹۴۳ء) گویا حاجی صاحب کا طلب عفو کا خط حضرت اقدس کے مکتوب کے بعد کا ہے۔اور جیسا کہ آگے ذکر آئے گا اس طلب معافی کے خط کے بعد حضور نے ان سے محبانہ رابطہ رکھا۔اس خط میں حاجی صاحب لکھتے ہیں کہ اب اتفاقیہ دو جلد میں سوم و چہارم کتاب آپ کی دستیاب ہو گئیں اور اول سے آخر تک مطالعہ میں آگئی ہیں۔اس سے تعیین و تصحیح ہوتی ہے کہ ماگ ۱۹۴۳ کرمی میں یا اس سے جلد پہلے یہ جلد میں حاجی صاحب کو میسر آئی تھیں۔جن کے مطالعہ کے بعد حاجی صاحب نے حضور سے معافی طلب کی۔