اصحاب احمد (جلد 10) — Page 220
220 مولانا محمد ابراہیم صاحب بقایوری ہیں خاندانی حال حالات :- حضرت مولانا محمد ابراہیم صاحب بقا پوری کے مورث اعلیٰ حافظ سعد اللہ صاحب حضرت اور نگ زیب کے درباری تھے۔ان کے بیٹے چوہدری محمد سعید صاحب نے ایک ہزار فقہی مسائل پر مشتمل ایک کتاب بنام ” ہزاری ۱۶۴ ہجری میں تالیف کی تھی۔اور ۱۱۵۶ھ میں اپنے نھیال کی اراضی واقعہ موضع بقاپور میں آئے تو سکھوں نے اراضی زبردستی چھین لی تو ان کے فرزند چوہدری شیر محمد صاحب جو مشہور عالم تھے مہاراجہ رنجیت سنگھ سے حکم نامہ لے آئے اور اراضی واپس حاصل کر لی۔مولا نا بقا پوری کے والد ماجد چوہدری صدرالدین صاحب قوم جالب کھوکھر زمیندار تھے ہمدردی رکھنے والے بزرگ تھے۔آپ نے چک چٹھہ ( تحصیل حافظ آباد ضلع گوجرانوالہ ) کے نمبردار کے حق میں جھوٹی گواہی دینے سے انکار کر دیا۔گو اس کے نتیجہ میں اس بد کردار نے آپ کو گاؤں سے نکال دیا۔مولا نا صاحب کی والدہ محترمہ دیندار ، روزہ نماز کی پابند تھیں۔بچوں کا علاج بلا معاوضہ کرتی تھیں۔مولانا کے تایا چراغ دین بھی بہت نیک بزرگ تھے۔رات کا بیشتر حصہ مسجد میں نوافل ادا کرتے۔ولادت و تعلیم و حضرت مسیح موعود کی اولین زیارت:۔حضرت مولانا محمد ابراہیم صاحب بقا پوری ۱۸۷۵ء میں بمقام چک چٹھہ پیدا ہوئے۔آپ نے سات سال کی عمر تک تیسری جماعت تک اسی جگہ سرکاری جملہ حضرت مولانا صاحب کے خود نوشت حالات حیات بقا پوری ہر چہار حصص میں شائع ہو چکے ہیں۔جو علی الترتیب ۱۲۴،۲۵۶، ۴۸ اور ۸۵ صفحات پر مشتمل ہیں۔خلاصہ بعض مزید ضروری حوالہ جات کے ساتھ تکمیل کر کے خاکسار یہاں شائع کر رہا ہے زیادہ تفصیل کیلئے احباب حیات بقا پوری کی طرف رجوع فرما ئیں۔حصہ پنجم بھی گذشتہ سال شائع ہوا ہے۔لیکن مجھے اس کے دیکھنے کا موقع نہیں ملا۔حیات بقا پوری کے متعلق سید نا حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔اس میں انہوں نے حضرت مسیح موعود کے بعض فتاوی بھی جمع کئے ہیں نہ معلوم وہ ہیں جن میں وہ بھی اس وقت بیٹھے ہوئے تھے یا ان کو پسند تھے۔کہ انہوں نے لکھ لئے لیکن اس میں حضرت مسیح موعود کے بعض خیالات اور آپ کے افکار بعض مسائل کے متعلق نہایت ہی اعلیٰ درجہ کے لکھے گئے ہیں۔بلکہ ایک حوالہ تو ایسا ملا ہے جس کی ہم کو تلاش رہی اور پہلے ہم کو نہیں ملا۔اس میں ہمیں مل گیا۔یہ بھی اچھی دلچسپ کتاب ہے۔“ (66)