اصحاب احمد (جلد 10) — Page 221
221 مدرسہ میں تعلیم پائی۔۱۸۸۴ء میں اپنے جدی گاؤں بقا پور سے دو میل کے فاصلہ پر موضع حمید پور میں ایک مولوی صاحب کے پاس قرآن شریف کے علاوہ گلستان و بوستاں تک فارسی پڑھی۔اور اسی سال نیلہ گنبد لا ہور کے مدرسہ رحیمیہ میں داخل ہو کر قدوری۔کافیہ اور فصول اکبری وغیرہ کتب پڑھیں ۹۰۔۱۸۸۹ء میں دو سال لدھیانہ میں حضرت مولانا عبدالقادر صاحب ( یکے از ۳۱۳ صحابہ ) سے تعلیم حاصل کی۔۱۸۹۱ء میں ایک دفعہ استاد محترم نے آپ کو نصف روپیہ دے کر محلہ اقبال گنج روانہ کیا۔تا کہ حضرت مسیح موعود سے کتاب ”فتح اسلام لے آئیں۔اس موقع پر آپ کو حضرت مسیح موعود کی اقتداء میں عصر کی نماز ادا کرنے کا موقع بھی ملا۔اس عرصہ طالب علمی کے متعلق جبکہ آپ صرف پندرہ سولہ سالہ نوجوان تھے۔حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی کے تاثرات کتاب کے آخری حصہ میں درج کئے گئے ہیں۔عرفانی صاحب کے تجربہ میں مولا نا بقا پوری صاحب میں اس وقت بھی روحانی ترقی کی تڑپ تھی اور ان کے چہرے پر رشد کے آثار ہو یدا تھے۔قادیان کی زیارت اور حصول قرب احمدیت :۔آپ نے ۱۸۹۱ء تا ۱۸۹۳ء مدرسہ مظاہر العلوم سہارنپور میں تعلیم مکمل کی۔۱۸۸۳ء کے واقعہ انتشار علوم کا آپ کو علم تھا اور ۱۸۹۴ء میں جبکہ آپ ریاست کچھ بھوج کے شہر مندرا کے مدرسہ عربی میں اول مدرس عربی تھے اور آپ کی عمر قریبا بیس سال کی تھی۔رمضان شریف میں کسوف وخسوف ہوا۔اور آپ سے لوگوں نے پوچھا کہ کیا اس نشان کی رو سے (حضرت) مرزا صاحب صادق ہیں۔آپ نے کہا کہ یہ علامت ہے کہ حضرت امام مہدی پیدا ہو چکے ہیں۔لیکن آپ کے دل پر اس نشان کا یہ ا ثر ہوا کہ حضرت مسیح موعود کی طرف آپ کی توجہ ہوگئی۔اور آپ کبھی کبھی قادیان آتے اور اپنے پرانے دوستوں حضرت عرفانی صاحب ، حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب اور حضرت قاضی امیرحسین صاحب سے بھی ملاقات ہوتی۔اور ہر بار قادیان آنے پر جماعت کے ساتھ آپ کا تعلق زیادہ پختہ ہو جاتا۔جب آپ ۱۹۰۳ء میں قادیان آئے تو آپ کے ایک سوال پر حضرت مسیح موعود نے آپ کو مخاطب کر کے فرمایا۔مولوی صاحب یہ ایمان نہیں کہ تھوڑے سے ایمان میں انسان کمزوری دکھائے اور حضور نے وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الخَوفِ وَالْجُوعِ ( 67 ) کی تفسیر بیان فرمائی اس سے مولانا صاحب اسقدر متاثر ہوئے کہ آپ نے عزم کر لیا کہ آئندہ آپ ضرور بیعت کے لئے تیار ہو کر آئیں گے۔ان دنوں آپ اپنے ماموں کے پاس قصبہ مرالی والہ (ضلع گوجرانوالہ ) میں رہتے تھے۔آپ نے وہاں پہنچ کر اس بات کا تذکرہ شروع