اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 70 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 70

70 شیخ عبدالوہاب صاحب * والدین۔وطن اور تعلیم اور اپنے مذہب سے نفرت کا آغاز :۔آپ پنڈت چندو لال کے ہاں مسماۃ نکی کے بطن سے پیدا ہوئے۔آپ کا وطن بنور ریاست پٹیالہ تھا۔آپ چار بھائیوں میں سے تیسرے تھے۔مدرسہ میں ایک دن ایک لڑکے نے کہا کہ ایک مسلمان لڑکے نے ، شوجی مہاراج کے بت کے اینٹ ماری تو ان کے سر سے گھڑوں خون بہہ گیا۔آپ متعجب ہوئے اور اس امر پر یقین نہ کیا بلکہ کئی اینٹیں خود زورزور سے بت کو مار مار کر تجربہ کر لیا کہ خون کا ایک قطرہ بھی نہیں نکلا۔اور آپ نے واقعہ بیان کرنے والے لڑکے کو یہ ماجرا کہہ سنایا۔آپ نے آٹھویں جماعت میں مدرسہ چھوڑ دیا۔نجوم کا شوق پیدا ہوا پھر پنڈ تائی کا چونکہ آپ کے والد پنڈت تھے اس لئے آپ کو جنم پتری۔برس پھل۔ٹیوہ وغیرہ بنانے میں خاص ملکہ پیدا ہو گیا اور اس کام میں کمال حاصل کر کے خوب شہرت حاصل کی۔اسلام کی آغوش میں :۔آپ فرماتے تھے کہ حاجی امیر محمد صاحب کا مجھے نیاز حاصل ہوا۔وہ ایک نیک سیرت بزرگ تھے اور اب بہشتی مقبرہ میں مدفون ہیں۔ان کی خدا ترسی اور نیک اخلاق نے میرے دل کو موہ لیا۔اور ان کے نیک نمونے نے مجھے اسلام کی کتابیں پڑھنے کی طرف راغب کیا ان کی وساطت سے غنیۃ الطالبین، فتوح الغیب، اکسیر ہدایت اور احیاء العلوم وغیرہ کتابیں دیکھیں۔اسلام سے محبت تو پہلے سے ہی تھی۔اب میں علی الاعلان ہندو دھرم چھوڑ کر مسلمان ہو گیا۔اس وقت والد وفات پاچکے تھے۔اور والدہ وغیرہ نے کسی قسم کی مخالفت نہ کی۔نماز سیکھی۔قرآن مجید پڑھا۔پنڈتائی چھوڑ کر دری بافی کا کام شروع کر دیا۔آپ کے حالات با صرا ر آپ سے دریافت کر کے منشی حبیب احمد صاحب کا تب بریلوی نے الفضل ۱/۱۴/۳۵ میں آپ کی زندگی میں شائع کئے تھے۔منشی صاحب نے ان سے بار بار خواہش کی کہ اپنے حالات قلمبند کریں لیکن کسر نفسی مانع رہی۔فرماتے کہ میں گمنامی کی حالت کو اچھا سمجھتا ہوں۔رجسٹر بیعت میں حاجی صاحب موصوف کا اندراج ذیل کے الفاظ میں ہے :۔بیعت ۲/۹۲/ ۲۱ بمقام کپورتھلہ محمد امیر خاں ولد چوہڑ خاں ساکن بنور ریاست پٹیالہ ڈاکخانہ سرہند ( نقل رجسٹر ) آپ کی وصیت نمبر ۲۷۹ اور تاریخ وفات ۵ جنوری ۱۹۰۸ ء ہے۔اور آپ بہشتی مقبرہ قادیان میں مدفون ہیں۔