اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 69 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 69

69 پیاری ماں بھی مجھ کو دی۔وہ قادیان آئیں اور مشرف باسلام ہوئیں۔میرے پاس ہی آخر دم تک رہیں اور بہشتی مقبرہ قادیان میں مدفون ہوئیں۔اَلْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَالِكَ۔میرے رب کے مجھ پر کس قدر فضل ہوئے ؟ جب میں سوچتا ہوں تو میری روح سجدہ میں گر جاتی ہے۔اے میرے رب ! میں کمزور تھا۔تو نے مجھ کو سنبھالا۔میں قدم قدم پر گر پڑتا تھا لیکن تو مجھ کو اٹھا تا تھا۔میں مشکلات و مصائب کو دیکھ کرگھبرا جاتا تھا۔تو مجھ کوتسلی دیتا تھا۔اور میری ہمت بڑھاتا تھا۔میں اس لائق کہاں تھا کہ مسلمان ہوتا ؟ محض تیرے فضل نے دستگیری کی اور میں مسلمان ہوا مجھ کو کیا پتہ تھا کہ تو نے اپنے کسی بندہ کو دنیا کی ہدایت کے لئے بھیجا ہوا ہے۔تو نے خود ہی میری رہنمائی فرمائی۔میر اعلم اتنا کہاں تھا کہ میں جانتا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ( میری جان ان پر فدا ہو ) کون تھے۔اور نبی کس کو کہتے ہیں۔تو نے خود میری مشکل کو حل کر دیا۔اور پکڑ کر ایک رہنما کے قدموں میں لا ڈالا اور اس منبع نور و ہدایت کی محبت سے میرے دل کو اس حد تک بھر دیا کہ میں بیعت کے لئے خود بخود کھنچا چلا گیا۔مجھ کو اس وقت کیا معلوم تھا کہ مجھے کیا سعادت مل رہی ہے۔میرے رب یہ تیرے کام تھے اور سب عجیب تھے۔اے میرے رب ! اب میں بوڑھا ہو گیا ہوں یہ میری عمر کا آخر ہے کچھ دنوں میں میں تیرے حضور حاضر ہوں گا میرے اعمال ایسے نہیں کہ میں تیرے حضور کھڑا ہو سکوں میں سراسر گنہگار ہوں اور ہر طرح سے نالائق ہوں۔اے میرے رب ! جہاں تو نے مجھ پر اتنے فضل کئے اب یہ بھی کر کہ مجھ کو اپنی ستاری اور مغفرت کی چادر میں لپیٹ لے اور اپنے فضل سے میرا انجام بخیر کر۔ایسا ہواے میرے رب! کہ جب میں تیرے حضور حاضر ہوں تو تو مجھ سے راضی ہو۔رَبَّنَا تَقَبّل مِنَّا إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الدُّعَاءِ۔آمين۔