اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 71 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 71

71 ایک آریہ سے مکالمہ ہونا اور حالت تذبذب میں پڑنا :۔فرماتے ہیں کہ ڈاکٹر تانی رام میرے بڑے گہرے دوست تھے وہ میرے مسلمان ہونے پر اکثر دل ہی دل میں کڑھتے تھے۔لیکن مجھ سے کچھ نہ کہہ سکتے تھے۔ایک دن مجھے ایک آریہ برہم پر کاش سے ملاقات کے لئے لے گئے۔جو بطور منصرم تعینات ہو کر آئے تھے اور تعارف میں کہا کہ یہ ہمارے دوست ہیں اور ہندو سے مسلمان ہوئے ہیں۔منصرم صاحب نے بعض تفاسیر کی بناء پر حضرت یوسف اور حضرت داؤد کی عصمت کے خلاف باتیں پیش کیں اور کہا کیا یہی نبیوں کی شان ہے جن کو تم پاک اور معصوم کہتے ہو اور انہی پر ایمان رکھنے کا حکم ہے؟ ان باتوں سے میرے دل پر بڑی چوٹ لگی گو یا غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔اور میں اس بے چینی میں بہت سے مولویوں کے پاس گیا لیکن کچھ بھی میرے پلے نہ پڑا۔میں نے خیال کیا کہ بڑی نادانی ہوئی۔جو میں نے اسلام قبول کیا۔اور خواہ مخواہ ہندو دھرم اور پنڈ تائی کو چھوڑا اور پر ماتما کی عطا کردہ عزت کو ٹھکرا دیا۔ہندو دھرم ہی اچھا ہے اب آریہ مذہب کی کتب کے مطالعہ سے روز بروز اسلام سے دور ہونے لگا شفا خانہ کے سرکاری ڈاکٹر میرے بڑے دوست تھے مجھے پریشان دیکھ کر انہوں نے کہا کہ انسان کی زندگی میں ایسے واقعات ہو ہی جایا کرتے ہیں۔انسان غلطی کر بیٹھتا ہے پریشان ہونے کی کوئی بات نہیں لاہور جا کر شدھ ہو جاؤ۔آمد و رفت کا کرایہ میں دے دوں گا۔ظلمت میں نور کی جھلک اور قادیان کی زیارت :۔شیخ صاحب بیان کرتے ہیں کہ میں اسی کشمکش میں تھا کہ چند دوستوں نے شدھی سے پہلے قادیان دیکھنے کو کہا۔لیکن میں مولویوں سے متنفر اور اسلام سے دل برداشتہ تھا۔میں نے اس کو کچھ اہمیت نہ دی جب شدھی کے لئے گھر سے چل پڑا تو راستہ میں خیال آیا کہ اس میں حرج ہی کیا ہے کہ قادیان ہو آؤں جہاں اور مولوی دیکھے وہاں یہ بھی دیکھ لوں گا۔اگر وہ بھی اسی طرح کے نکلے تو پھر شدھی ہو جائے گی۔چنانچہ میں قادیان پہنچاسن یاد نہیں۔سب سے پہلے میں نے حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کو دیکھا تو سمجھا کہ یہی حضرت مرزا صاحب ہیں۔جب نماز کے وقت حضرت مسیح موعود باہر تشریف لائے تو سب دوست تعظیماً کھڑے ہو گئے تو حقیقت کا علم ہوا۔میں نے اپنے تمام اعتراضات حضرت مولوی نورالدین صاحب اور حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کی خدمت میں پیش کئے۔ان اعتراضات کو مولویوں نے تمسخر اور استہزاء کے رنگ میں ٹال دیا تھا جس سے یہ لوگ میرے لئے اسلام سے نفرت و بعد کا ذریعہ بنے لیکن ان بزرگوں نے شرح وبسط سے جواب دے کر تمام شکوک رفع کر دیئے اور اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں اسلام کے متعلق اطمینان