اصحاب احمد (جلد 10) — Page 399
399 چونکہ حضور کو دماغی کام زیادہ کرنا پڑتا تھا۔اس لئے حضور کے خادم اکثر عرض کرتے کہ کوئی مقوی غذا ہونی چاہئیے۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کو اس کا بہت خیال رہا کرتا تھا۔ایک دن دستر خوان پر میں حضور کے پاس تھا اور دوسری طرف خواجہ کمال الدین صاحب تھے۔دستر خوان پر کھانا رکھا گیا۔ہمیں چھپیں آدمی تھے۔سب کے سامنے گوشت تنوری روٹی بعض کے سامنے چاول کیونکہ ہر ایک ( کی عادت کے مطابق ہی کھانا تیار ہوتا تھا۔جس کی مہمان فرمائش کرے۔حضور کے سامنے گوشت کا ظرف نہیں رکھا گیا۔آخر میں ایک برتن میں ایک اور چیز جو گوشت نہ تھا، رکھی گئی اور توے کی روٹی۔غالباً حضور تنوری روٹی نہیں کھاتے تھے کیونکہ نقصان کرتی تھی۔میں نے یہ دیکھ کر کہ حضور کے سامنے دوسری چیز ہے، یہ سمجھا کہ اب کسی مقوی غذا کے ( تیار کرنے کا انتظام ہو گیا ہے۔دل میں خوشی ہوئی کھانا شروع ہو ا حضور نے ایک روٹی لے کر اس پیالہ میں سے۔اس روٹی پر رکھا اور خواجہ کمال الدین (صاحب)۔۔۔۔اس پر بھی پیالہ میں۔خشک تھا۔دوسری دفعہ مقوی غذا کو کہا تو شلجم کا بھرتا تھا۔اس میں روغن زرد بھی تھا۔مگر نہ اس قدر کہ ظاہر ہو آپ روٹی اٹھاتے اور اس میں ( سے ) سخت جگہ دیکھ کر نکالتے اور وہ اس خالی پیالہ میں لگا کر تناول فرماتے۔میں حضور کو کھاتے دیکھتا جاتا تھا۔اور مقدار غذا پر حیران ہوتا تھا۔حضور کو ضعف معدہ کی بھی شکایت تھی۔اور جب تحریر کا کام زیادہ کرتے تھے تو دست آنے لگتے تھے۔اس لئے روٹی کا وہ حصہ تناول فرماتے تھے جو توے پر سخت ہو جاتا ہے۔جس کو اردو میں کر کرا کہتے ہیں۔میں نہیں کہہ سکتا کہ حضور نے پورا ایک تولہ کھایا ہو۔لودھیانہ اور قادیان میں بارہا حضور کے دستر خوان پر کھایا اور یہ حالت دیکھی چونکہ حضرت منشی صاحب کو حضرت اقدس کی معیت میں کھانا کھانے کا موقع ملتارہا۔اس لئے ذیل کی روایت درج کی جاتی ہے۔حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب بیان فرماتے ہیں کہ : - مدتوں آپ ( یعنی حضرت اقدس ) مہمانوں کے ہمراہ کھانا کھایا کرتے تھے۔اور یہ دستر خوان گول کمرہ یا مسجد مبارک میں بچھا کرتا تھا اور خاص مہمان آپ کے ہمراہ دستر خوان پر بیٹھا کرتے تھے۔یہ عام طور وہ لوگ ہوا کرتے تھے۔جن کو حضرت صاحب نامزد کر دیا کرتے تھے۔ایسے دستر خوان پر تعداد کھانے والوں کی دس سے ہیں چھپیں تک ہو جایا کرتی تھی۔،، (۵۱) قلمی کاپی - (صفحہ ۷۴ ) اس صفحہ کی دس اور صفحہ ۷۵ کی گیارہ سطریں مکمل ہیں۔چار سطریں دریدہ ہیں۔اور نقد تین سطور ورق موجود نہیں۔” دوسری دفعہ“ کے بعد کی عبارت آخر صفحہ ۷۵ کی ہے۔