اصحاب احمد (جلد 10) — Page 398
398 آرام معلوم ہوتا ہے۔بھوک پیاس کچھ معلوم نہیں ہوتی۔رات کو البتہ کچھ زیادہ تکلیف ہوتی ہے۔اس لئے روزہ رکھ لیتا ہوں۔صبح کو تپ اتر جا تا تھا تو حضور سیر کو تشریف لے جایا کرتے تھے۔(قلمی کا پی صفہ ۵۲ تا ۵۴ ) نسخه سر منه مقوى بصر منشی حبیب الرحمن صاحب تحریر کرتے ہیں: د منشی ظفر احمد ( صاحب ساکن) کپورتھلہ کے والد صاحب مرحوم کی بینائی کم ہو گئی تھی۔انہوں نے حضرت سے تذکرہ کیا تو حضور نے دو قسم کے سرمے بنا کر لگانے کا ارشادفرمایا جو ذیل میں لکھتا ہوں : (۱) سُرمہ اچھی قسم کا لے کر چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر لیا جاے۔سرس کی موٹی لکڑی جس کا قطر آٹھ دس انچ ہو اور تین ہاتھ لمبی ہو اس کی لمبائی کے درمیان ایک گڑھا کھود کر اس میں سرمہ بھر دیا جائے اور اس پر وہ لکڑی ( جو ) نکالی گئی ہے رکھ کر مٹی سے بند کر دیا جاوے اور لکڑی کی دونوں طرف پا تھیاں (اوپہلے ) رکھ کر آگ لگادی جائے لکڑی تازہ یعنی گیلی ہو۔جب دونوں طرف سے آگ جلتی جلتی سرمہ کی جگہ سے قریب آجائے تو سرمہ نکال لیا جاوئے اور پیس کر استعمال کیا جاوے۔(۲) تل کا پھول جمع کر کے اس کا پانی نکال لیا جائے اور وہ پانی سرمہ میں ڈال کر کھرل کیا جائے جب ☆ خشک ہو جائے ، استعمال کیا جائے۔فر مایا کہ آپ یعنی خاکسار آسانی سے یہ سرمے تیار کر سکتے ہیں۔چنانچہ میں نے سرس کی لکڑی میں سرمہ تیار کر کے منشی ظفر احمد (صاحب) کو دیا تھا۔چونکہ دیرینہ بات ہے۔اس لئے اس کا نتیجہ یاد نہیں رہا۔“ حضرت اقدس کی غذا حضور کی غذا کے بارے منشی حبیب الرحمن صاحب تحریر کرتے ہیں۔( قلمی کا پی صفحہ ۷۶ ۷۷ ) گوشت اور تنور کی روٹی اور کبھی دال اور کبھی پلاؤ وغیرہ۔حضور کی غذا خاص نہ ہوتی تھی۔(اوپلے ) کا حصہ دریدہ ہے صرف ’دا‘ باقی ہے۔نیز اس صفحہ کی آخری سفر دریدہ ہے تسلسل عبارت کو طرف سے آگ کے ساتھ مکمل کیا ہے۔صفحہ ۷۳ موجود نہیں صفحہ ۷۴، ۷۵ والا ورق دریدہ ہے جو حصہ موجود ہے نقل کر دیا گیا ہے۔دریدہ حصہ کو خطوط وحدانی والے الفاظ سے مکمل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔جہاں تکمیل ممکن نہ تھی نقطے ڈال دئے گئے ہیں۔