اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 400 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 400

400 نزول الہام کے دو مواقع پرمنشی صاحب کی موجودگی معدودے چند صحابہ کرام کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کشفی حالت طاری ہوتے وقت بھی دیکھنے کی سعادت ملی ہے۔ایک موقع خطبہ الہامیہ کا تھا جس میں دوصد کے قریب احباب کو ایسا نادر موقع نصیب ہوا تھا۔ان میں منشی صاحب بھی شامل تھے۔(۱) خطبہ الہامیہ کی تقریب: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ۱۰ راپریل ۱۹۰۰ء کوعید سے ایک روز پہلے حضرت مولوی نورالدین صاحب کے ذریعہ قادیان میں حاضر احباب کی فہرست بنوالی تھی تا کہ ان کے لئے دعا کر سکیں۔حضور سارا دن بیت الدعاء میں دروازے بند کر کے دعا میں مصروف رہے۔اس عید میں کپورتھلہ ،سیالکوٹ ، لا ہور ، راولپنڈی، جموں بمبئی لکھنو وغیرہ بہت سے مقامات سے کثیر تعداد میں احباب قادیان آئے ہوئے تھے۔منشی صاحب نے بواسطہ شیخ عبدالرحمن صاحب اس بارے میں بیان کیا کہ عید لاضحیہ کے روز حضور کو الہام ہوا کہ آج تم عربی میں تقریر کرو (۵۳) میں اس روز قادیان میں تھا۔چنانچہ ہم سب احباب کو اس سے اطلاع دی گئی۔حضور نے اس سے پہلے کبھی کوئی تقریر عربی میں نہیں کی تھی۔ہم اس الہام کی وجہ سے خیال کرتے تھے کہ کوئی معجزہ رونما ہوگا۔نما ز عید کے بعد حضرت اقدس خطبہ کے لئے کھڑے ہو گئے حضرت مولوی نورالدین صاحب اور حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کو خطبہ قلم بند کرنے کے لئے حضور کی طرف سے مقرر کیا گیا تھا۔دونوں حضور کے قریب بیٹھے ہوئے تھے۔اور نہایت قوت اور تیزی کے ساتھ خطبہ قلمبند فرما رہے تھے۔سامعین میں سے بعض اور دوست بھی اپنے طور پر لکھ رہے تھے۔حضور کے خطبہ میں روانی تھی جس کی زبان نہایت فصیح و بلیغ تھی۔حضور کی آنکھیں بند تھیں۔چہرہ مبارک نہایت سرخ تھا جس سے نورانی کرنیں نمودار ہو رہی تھیں اور ایک عجیب مبارک سماں تھا۔قریباً دوصد احباب اس وقت حاضر ہوں گے۔دونوں مولوی صاحبان بڑی تیزی سے خطبہ تحریر کرنے کے باوجود پیچھے رہ جاتے تھے۔اور کئی دفعہ حضور سے دریافت کرتے تھے۔کیونکہ حضور نے پہلے ہی فرما دیا تھا کہ جو کچھ دریافت کرنا ہو مجھ سے اسی وقت دریافت کر لیں۔خطبہ ختم ہونے کے بعد حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے اس کا اردو تر جمہ سنایا۔اس دوران حضرت