اصحاب احمد (جلد 10) — Page 13
13 ماسٹر فقیر اللہ صاحب سردار بیگم صاحبہ (اہلیہ) آپ کے دل میں اواخر دسمبر ۱۹۳۸ء میں زبردست تحریک ہوئی تو یہ حالات قلمبند فرمائے۔اور میرے عرض کرنے پر مجھے بھجوا دیئے۔سارے حالات قریباً آپ کے الفاظ میں ہیں۔(مولف) والدین۔وطن اور ولادت :۔حضرت ماسٹر فقیر اللہ صاحب رقم فرماتے ہیں:۔میرے والد منشی امام بخش پشاور کے ایک مشہور اور قابل اپیل نویس تھے اور بڑے قانون دان مشہور تھے۔شہر کے بڑے بڑے رؤساء اور سرکاری عہد یدار قانونی مشوروں کے لئے ان کے پاس آیا کرتے تھے۔اس زمانہ میں وکیل بہت کم تھے۔مقدمہ کا دارومدار عرضی دعوئی یا اپیل پر ہی ہوتا تھا۔وہ عدالت ماتحت کے فیصلے پر اپیل میں نہایت سختی سے جرح کدح کرتے تھے اس وجہ سے انگریز حکام جن کے فیصلہ پر وہ جرح کرتے۔بعض اوقات ان سے ناراض بھی ہو جاتے۔کیونکہ اس زمانہ میں انگریز اپنے خلاف کوئی بات نہ سن سکتا تھا جب ان کے فیصلوں پر سختی سے جرح ہوتی تو ان کو ناگوار گزرتا۔چنانچہ کئی دفعہ ان کے دوستوں نے جن میں سے بعض اعلیٰ عہدوں پر ممتاز تھے، ان کو مشورہ بھی دیا کہ آپ کی اپیلوں سے انگریز بہت چڑتے ہیں۔آپ زیادہ سختی نہ کیا کریں۔مگر ان کا زور قلم آخر تک ویسا ہی رہا۔ایک دفعہ کسی ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ یا ڈپٹی کمشنر نے ان کی اپیل سے ناراض ہو کر دو تین مہینے کے لئے ان کو معطل بھی کر دیا مگر انہوں نے اپنی شان وضعداری کو قائم رکھا۔معطلی کے عرصہ میں جو شخص اپیل لکھانے آتا یہ مسودہ بنا کر میر مدثر شاہ صاحب کے والد میر احمد شاہ صاحب اپیل نویس کے پاس بھیج دیتے اور وہ اپنی طرف سے اپیل لکھ کر بھیج دیتے۔والد صاحب نے دو شادیاں کیں پہلی بیوی سے ایک لڑکی ہوئی۔نورالنساء جس کی شادی موضع کا لو خورد تحصیل حضر وضلع اٹک میں نواب خانصاحب سے ہوئی۔یہ جن کے والد اس علاقہ میں بڑے زمیندار اور مشہور آدمی تھے۔پہلی بیوی کی وفات پر محترمہ سرور جان صاحبہ سے انہوں نے شادی کی جن استفسار پر ماسٹر صاحب فرماتے ہیں کہ ہمشیرہ نور النساء صاحبہ جوانی میں ہی فوت ہو گئیں ان کے تین بچے تھے سب سے چھوٹا عبداللہ احمدی ہوا۔قادیان میں پڑھتا رہا۔وہاں سے مڈل پاس کر کے چلا گیا۔مالاکنڈ میں عرائض نویس رہا۔اس کا لڑ کا عبدالرحیم احمدی تھا کیمبل پور میں ملازم ہوا۔جوانی میں فوت ہو گیا۔