اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 14 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 14

14 کے بطن سے چارلڑ کے اور ایک لڑکی ہوئی جن میں سے میں سب سے بڑا ہوں۔باقی تین بھائی اور ایک بہن فوت ہو چکے ہیں جو ہمارا اصل وطن حضرو ہے۔جہاں ہمارا ایک جدی مکان بھی تھا جو والد صاحب نے میری ہوش میں ایک شخص کے پاس فروخت کر دیا۔والد صاحب پشاور چلے گئے تھے اور وہیں سکونت اختیار کر لی۔میری والدہ اعوان قوم سے پشاور کی باشندہ تھیں۔اور میری پیدائش پشاور میں ہی ہوئی۔میری تاریخ پیدائش ۲۴ جون ۱۸۷۶ء مطابق ۲ جمادی الثانی ۱۲۹۳ھ روز شنبہ ہے۔* پشاور میں ہمارے دو مکان تھے جو محلہ باز داران میں تھے۔تعلیم قرآن مجید : بعمر قریباً پانچ سال والد صاحب نے مجھے محلہ کے ملاں کے پاس قرآن شریف پڑھنے کے لئے بٹھا دیا۔جب میں نے بغدادی قاعدہ اور قرآن شریف کا ایک آدھ پارہ پڑھ لیا تو مجھے ایک حافظ صاحب کے سپر د کیا گیا۔جو حافظ دراز صاحب کے پوتے اور محلہ ڈپٹی میں ایک مسجد کے امام تھے۔ان کے پاس ایک عرصہ پڑھتا رہا۔اس کے بعد ایک اور حافظ صاحب کے سپرد کیا۔جو کابلی دروازہ کے قریب ایک مسجد کے امام تھے اس طرح قرآن شریف میں نے نہایت اعلی قاری حافظوں سے پڑھا۔دیگر تعلیم اور والد کی وفات:۔قرآن شریف ختم کرنے کے بعد مجھے تقریباً آٹھ سال کی عمر میں مشن سکول میں داخل کیا گیا جہاں میں ہر ایک جماعت میں اچھا رہا اور ہر سال با قاعدہ پاس ہوتا رہا۔طالب علمی میں ہمیشہ مجھے ایک استاد گھر پر پڑھاتا رہا۔ان میں سے مولوی امام الدین صاحب اور ماسٹر باغ دین صاحب زیادہ عرصہ میرے ٹیوٹر رہے۔دونوں بٹالہ کے تھے اور مشن سکول میں مدرس تھے آخر الذکر ( مسلمانوں کے مشہور لیڈر سر فضل حسین صاحب مرحوم کے غالباً دور کے تعلقدار بھی تھے۔اور ان کو بھی گھر پر پڑھایا کرتے تھے۔میاں فضل حسین اسی سکول کے طالب علم تھے اور ان کے والد میاں حسین بخش ان دنوں پشاور میں ای۔اے۔سہی تھے۔والد صاحب کونفرس کا مرض تھا۔جب فوت ہوئے تب بھی نقرس کا دورہ تھا۔مگر وفات اچانک دماغ کی استفسار پر ماسٹر صاحب نے بتایا کہ دو بھائی عالم طفولیت میں فوت ہو گئے۔سب سے چھونا فضل الہی میرے احمدی ہونے کے بعد فوت ہوا۔ایک دفعہ والدہ کے ساتھ قادیان بھی آیا تھا احمدی نہیں ہوا شادی بھی نہیں کی۔بہن کی شادی پشاور ہوئی تھی ان کی اولاد ایک لڑکا (عبدالقیوم لاہور کی جماعت سے تعلق رکھتا ہے۔واہ فیکٹری میں خزانچی ہے۔جنتری کے مطابق یہ یکم جمادی الثانی ہے۔(مؤلف)