اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 132 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 132

132 وقت اپنی تاریخ روانگی کی اطلاع دیتے اور ان سے دریافت فرماتے کہ کتنے آدمی جائیں گے۔گاڑی چلنے سے بہت پہلے اسٹیشن پر پہنچ جاتے اور جب تک تمام مرد عور تیں اور بچے ٹھیک طور پر بیٹھ نہ جاتے۔اور تمام اسباب ٹھیک طرح رکھوا نہ لیا جاتا۔مرحوم خود نہ بیٹھتے۔اسی طرح راستے میں تمام جلسے پر جانیوالوں کے ہر انتظام کے آپ ذمہ دار ہوتے۔بالکل راعی کی سی چستی اور ہوشیاری کے ساتھ آپ اپنے گلے کو منزل پر پہنچا کر اطمینان حاصل کرتے۔ہر دینی تحریک میں مسابقت : مختصر یہ کہ للہ تعالیٰ کی رضا کی کوئی راہ نہ تھی جس پر مرحوم نے قدم نہ مارا۔قبول احمدیت کے بعد کوئی تحریک ایسی نہ تھی جس میں سابقون کی حیثیت میں آپ شامل نہ ہوئے ہوں۔آپ نے ۱۹۰۶ء میں وصیت کر کے حصہ جائیداد کو ہبہ کر دیا۔حج بیت اللہ کیا، زکوۃ با قاعدہ دیتے تھے۔گاؤں میں ایک فراخ اور عمدہ مسجد احمدیہ تعمیر کرائی۔مسجد لندن کی تحریک میں حصہ لیا ملکا نہ جہاد میں متھرا کے ضلع میں ایک گاؤں آنور ( نو گاؤں) میں تین مہینے تبلیغ کی۔اخویم مولوی محمد عبد اللہ صاحب درویش ( معاون ناظر دعوة وتبلغ قادیان ) ولد مکرم چوہدری نورمحمد صاحب مرحوم ذکر کرتے ہیں کہ مجھے بھی ان قافلوں میں آنے کا موقع ملا ہے بعض دفعہ حضرت چوہدری عبدالسلام صاحب امیر جماعت احمدیہ کا ٹھ گڑھ اصرار کرتے کہ اڑ مڑ مانڈہ سے قافلہ وہاں تک جانا مناسب ہے اس طرح زیادہ ثواب ہوگا۔اس لئے بعض دفعہ چھپیں تھیں مردوں کا قافلہ وہاں اتر پڑتا۔چوہدری عبدالسلام صاحب لیمپ لئے آگے آگے چلتے۔اور چلو قادیان شریف جانے والے کی آواز دیہات میں سے گذرتے ہوئے بلند کرتے جاتے۔راستہ میں کسی جگہ قافلہ خود ہی کھانا تیار کر کے کھاتا۔موضع ہر چو وال نزد قادیان پہنچ کر عصر کی نماز ادا کی جاتی۔اور قادیان میں داخل ہوتے۔اس وقت چوہدری عبدالسلام صاحب دعا کراتے۔اور اس طرح چالیس میل کا فاصلہ دس گیارہ گھنٹوں میں طے کر کے قافلہ قادیان آ پہنچتا۔اور بقیہ قافلہ حضرت حاجی صاحب کے ساتھ بذریعہ گاڑی قادیان پہنچتا۔مولوی محمد عبد اللہ صاحب یہ بھی ذکر کرتے ہیں کہ موضع حسن پور کلاں نزد کا ٹھ گڑھ میں صرف ہمارا گھر احمدی تھا حضرت مولوی شیر علی صاحب بعض دفعہ حضرت حاجی صاحب کو بھینس خرید کر بھیجنے کے لئے لکھتے تو آپ اعلی بھینس تلاش کر کے بھجواتے۔ایک دفعہ حضرت حاجی صاحب اس کام کے لئے تشریف لائے شام ہوگئی۔میں نے کھانا کھانے پر اصرار کیا کھانا تیار کر والیا تھا فرمانے لگے فلاں گاؤں میں کھانا تیار ہے۔اور وہاں پہنچنے کا پروگرام بھی ہے لیکن میرے اصرار پر کھانا کھایا اور فرمایا بتاؤ کس خاص امر کے لئے دعا کی جائے میں نے عرض کیا کہ دینی اور دنیوی بہتری کیلئے چنانچہ آپ نے دعا فرمائی گویا اس موقع کو بھی آپ نے جانے نہ دیا۔دعاؤں کی رغبت دلائی۔اور اپنی محبت کا بھی اظہار کیا۔