اصحاب احمد (جلد 10) — Page 131
131 ساتھ محض اللہ بہت شفقت فرماتے تھے۔ان کی وفات سے یہ عاجز ایک بہت بڑے محسن اور محبت کرنے والے بزرگ کی دعاؤں سے محروم ہو گیا۔مجھے کئی دفعہ بتایا کہ میں تمہارے لئے ہر نماز میں دعا کرتا ہوں۔بلکہ یہ بھی فرمایا کہ شاید ہی کوئی سجدہ خالی جاتا ہے۔مرحوم کی وفات سے ایک ہفتہ پہلے یہ عاجز کریام حاضر خدمت ہوا تو خوشی کا اظہار فرمایا۔مرحوم اس وقت بہت ہی کمزور ہو چکے تھے۔فرمایا اب مجھ سے دعا نہیں ہوسکتی۔نمازوں میں سے ایک صبح کی نماز میں دعا کر سکتا ہوں۔اور اس میں حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ اور خاندان۔۔۔۔( حضرت مسیح موعود ) کے بعد تمہارے لئے دعا کرتا ہوں۔اور اس کے بعد اپنے اور اپنے بچوں کے لئے دعا کرتا ہوں۔کون اس التزام اور اس درد کے ساتھ کسی غیر کے لئے دعائیں کر سکتا ہے۔میں نے اس امر کا ذکر بہ تفصیل اس لئے کیا ہے تا اندازہ ہو سکے کہ مرحوم رضی اللہ عنہ مخلوق خدا کے لئے کیسا پُر شفقت دل اپنے سینہ میں رکھتے تھے۔مجھے ایک اور واقعہ یاد آیا ایک دفعہ ایک مقدمہ تھا جس میں احمدی مدعیان اور ایک غیر احمدی عورت مدعی علیہ تھی۔قانونی لحاظ سے احمدیوں کا مقدمہ مضبوط تھا۔عورت کے والد کو یہ بات سوجھی کہ وہ حضرت حاجی صاحب کے پاس گیا اور عرض کی کہ شرعی لحاظ سے عورت کو بھی کچھ نہ کچھ حق پہنچتا ہے۔حضرت حاجی صاحب نے اس عاجز سے ذکر کیا۔اور راضی نامے کی ایک صورت نکل آئی۔اس دن افسر مال کا مقام قصبہ کرتار پور میں تھا۔میں نے نواں شہر کی کچہری سے جو اسٹیشن سے میل سوا میل کے فاصلے پر ہے جانا تھا۔کچہری سے مدعیان اور مدعی علیہا حضرت حاجی صاحب اور یہ عاجز پیدل اسٹیشن کے لئے چل پڑے ابھی تھوڑی دور گئے تھے کہ گاڑی کی سیٹی کی آواز آئی۔اب اس مقدمہ میں اگر کسی کو فائدہ پہنچتا تھا یا مدعیان اور مدعی علیہم تھے۔اور یا یہ عاجز تھا جس نے محنتانہ لیا ہوا تھا لیکن گاڑی کی آواز سنتے ہی سب سے پہلے بے اختیار جو ٹکٹوں کے لئے دوڑ پڑا وہ ہمارے عمر رسیدہ بزرگ۔حضرت حاجی صاحب تھے۔جنہیں دنیوی لحاظ سے مقدمہ سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔صرف خدا کی رضا کا شوق رگوں میں خون بن کر دوڑ رہا تھا۔جو انہیں دوڑنے پر مجبور کر دیتا تھا۔اور رگوں میں بوڑھے کو جوانوں سے زیادہ جوان ہمت بنائے رکھتا تھا۔تھوڑی دور دوڑنے پر اطلاع ملی کہ ابھی یہ گاڑی راہوں جائے گی پھر واپس آئے گی۔اس پر حضرت حاجی صاحب ٹھہر گئے۔انتظام جلسہ سالانہ :۔جلسہ سالانہ کے موقع پر حضرت حاجی صاحب کو علاقے کی تمام جماعتوں کی بہت ہی فکر ہوتی۔اسٹیشن کے تمام افسران سے مل کر مرحوم طبع شدہ واپسی ٹکٹوں کا انتظام کراتے۔تمام جماعتوں کو قبل از