اصحاب احمد (جلد 10) — Page 133
133 جلسہ سیرت النبی مکیریاں دار التبلیغ :۔سیرت النبی کے جلسوں میں ہر سال نہایت ہی ذوق وشوق سے بجائے ایک دن کے دودن جلسے کرواتے مقررہ تاریخ سے آپ ایک دن پہلے تین دیہات میں جو کئی کئی میل کے فاصلہ پر تھے جاتے اور ان میں تقریریں فرماتے۔مقررہ تاریخ کو قصبہ راہوں کو صبح کے وقت قصبہ نواں شہر میں۔دوپہر کے بعد قصبہ بنگہ میں شام کے بعد جلسے منعقد کراتے۔اور پھر خود تقریر میں فرماتے۔حضرت امیر المومنین ایده اللہ تعالیٰ کے تمام درسوں میں شمولیت فرماتے۔میریاں دار التبلیغ میں متواتر دوسال با قاعدہ ایک ایک ماہ دیا۔تحریک جدید میں۔۔غیر معمولی حصہ لیا۔عاقبت محمود کے متعلق ایک خواب :۔مرحوم نے کئی سال ہوئے اپنا ایک خواب مجھے سنایا تھا۔جو آپ کے حالات کے لحاظ سے نہایت ہی صحیح تھا۔فرماتے تھے کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ قیامت کا دن ہے ایک طرف ایک پتھر جس میں دوزخیوں کے نام لکھے ہیں اور اس پتھر کے پاس ایک فرشتہ کھڑا ہے۔میں ڈرتا ڈرتا اس پتھر کے پاس گیا۔تا کہ دیکھوں کہ کہیں اس میں میرا نام تو نہیں تو وہ فرشتہ مجھے دیکھ کر کہتا ہے کہ یہ نام اس جگہ نہیں ہوسکتا۔پھر میں دوسری طرف گیا وہاں ایک کتاب پڑی ہے میں وہ کتاب کھول کر دیکھتا ہوں۔تو کئی صفحوں میں میرا نام لکھا ہوا ہے۔یقیناً وہ زندہ جاوید انسان مرا نہیں ہماری آنکھوں سے اوجھل ضرور ہو گیا ہے۔ہرگزنه مرد آنکه دلش زنده شد بعشق ! ثبت است بر جریده عالم دوام شال اللہ تعالیٰ مرحوم کے پسماندگان کو صبر جمیل عطا کرے ان کے بچوں کا آپ حافظ و ناصر ہو۔اور اپنی تمام دینی ودنیوی نعمات کا وارث بنائے۔آمین ثم آمین۔(42)۔آپ کی روایات کتاب کے آخر پر درج کی گئی ہیں۔(مؤلف)