اصحاب احمد (جلد 10) — Page 91
91 ہوشیار پور میں خاص طور پر ممتاز ہیں۔ان کے گاؤں کر یام میں احمدیوں کی ایک بڑی جماعت ہے۔حاجی صاحب کا ادوسرا نکاح وہاں ہی ہونے والا تھا مگر اس نکاح میں عرصہ سے بعض روکیں اور مشکلات تھیں۔راجپوت قوم میں سب سے زیادہ پابندیاں شادی بیاہ میں ہوتی ہیں اور باوجود یکہ اس وقت عام طور پر جاہلیت کی رسموں کو تو ڑا جارہا ہے اور ہمارے احمدی بھائی بہت بڑی قربانی کر کے سلسلہ میں داخل ہو چکے ہیں اور اکثر رسومات کو وہ تو ڑ بھی چکے ہیں مگر ابھی تک بعض رسموں کا اثر ان میں باقی ہے۔منجملہ ان کے چھتوں اور مکانوں کا ایک دیرینہ سوال ہے۔اور ایسا ہی جہاں لڑکیاں لیتے ہیں وہاں دیتے نہیں۔اس نکاح میں بھی اس قسم کی مشکلات کا ایک سلسلہ چلا آتا تھا۔ایام جلسہ میں اس کے متعلق کوشش کی گئی مگر اس خیال سے کہ جماعت کے اتحاد کو اس سے صدمہ نہ پہنچے چوہدری صاحب اس قربانی کے لئے آمادہ اور تیار تھے کہ باوجود لڑکی والوں کے بے حد اصرار کے وہ نکاح نہ کریں۔حضرت اولو العزم ایدہ اللہ نے جو جماعت کی اصلاح اور فلاح کے لئے کسی مشکل کو مشکل ہی نہیں سمجھتے۔یہ دیکھ کر کہ اس رسم کو ٹوٹنا چاہئے نکاح کرنے کے لئے حکم دیدیا۔اس لئے جلسہ کے بعد یہ نکاح خود حضرت خلیفۃ اسیح نے بعد نماز فجر پڑھا۔یہ امر جماعت کو معلوم ہے کہ حضرت خلیفہ مسیح صرف ان مخلصین کے نکاح کا خود اعلان فرماتے ہیں جن کے متعلق آپ کو کامل یقین ہوتا ہے کہ ہر امر میں آپ کے فیصلہ کو شرح صدر سے قبول کرتے ہیں۔حضرت نے اپنے خطبہ میں ذات پات کے رواج اور پابندیوں کی برائیوں کو بیان کرتے ہوئے اس امر پر اظہار افسوس فرمایا کہ راجپوت قوم میں یہ قیود حد سے زیادہ ہیں۔اور اس پر بھی اظہار افسوس فرمایا کہ ابھی تک احمدی راجپوتوں میں بھی اس قسم کی قیود پائی جاتی ہیں۔آپ نے فرمایا کہ لوگ چھت اور مکان ( گھر کی چھت وغیرہ) کے قائم رہنے کے لئے دعا کرتے ہیں مگر میں اس چھت اور مکان ( راجپوت برادری کے اصطلاحی چھت اور مکان ) کے گر جانے کی دعا کرتا ہوں۔غرض حضرت خلیفہ المسیح نے اپنے خطبہ میں ان چھتوں اور مکانوں کے گر۔۔جانے کی دعا کی۔اور یہ بھی فرمایا کہ بعض لوگ دوسروں کی لڑکیاں تو لے لیتے ہیں لیکن ان کو دیتے نہیں۔اور اس طرح ان کو ذلیل سمجھتے ہیں ایسے لوگ بے حمیت ہیں جو پھر ان کو لڑکیاں دیتے ہیں۔ان کے اس نخوت اور تکبر کو توڑنے کے لئے ضروری ہے کہ ان کو ہرگز لڑ کیاں نہ دی جائیں۔حاجی صاحب کا یہ نکاح اس قسم کا رسم کو توڑنے والا ہے۔اور اسی وجہ سے حضرت صاحب