اصحاب احمد (جلد 10) — Page 90
90 بمقام سر وعہ وفات پائی اور وہیں مدفون ہوئیں۔ہمیں اہلی زندگی :۔آپ کی پہلی شادی ہعمر چودہ سال ۱۸۸۹ء میں محترمہ امام بیگم صاحبہ بنت بھنو خاں صاحب سکنہ موضع رائے پور نزد کا ٹھ گڑھ (ضلع ہوشیار پور) سے ہوئی۔موصوفہ حاجی صاحب سے قریباً دو ماہ قبل ۸ئی ۱۹۴۳ء کو وفات پا کر بہشتی مقبرہ قادیان میں مدفون ہوئیں۔مرحومہ بہت نیک بخت ، پرہیز گار، نماز روزہ کی پابند بلکہ تہجد گزار اور بہت صدقہ خیرات کرنے والی تھیں۔حضرت مسیح موعود کے عہد مبارک میں احمدیت قبول کی تھی۔چونکہ ان کے بطن سے کوئی اولاد نہ ہوئی تھی اس لئے موضع کریام ہی میں محترمہ محمد جان بیگم صاحبہ ہمشیرہ نعمت خان ولد دارے خاں راجپوت) سے رشتہ کی تجویز ہوئی لیکن چونکہ موصوفہ کے بعض اقارب کو اس سے اتفاق نہ تھا اس لئے حاجی صاحب نے یہ سمجھتے ہوئے کہ یہ امر جماعتی انتشار کا موجب نہ ہو۔موصوفہ کے بھائی چوہدری نعمت خاں صاحب کو جو کہ ولی بھی تھے کہا کہ چونکہ آپ کے گھر میں اختلاف رائے ہے مبادا یہ ذاتی اختلاف جماعتی انتشار کی صورت اختیار کرے اس لئے میری رائے یہ ہے کہ آپ اپنی ہمشیرہ کا رشتہ کسی اور جگہ کر لیں۔ممکن ہے فریقین کو ایک دوسرے سے بہتر رشتے میسر آجائیں۔یہ معاملہ دو سال تک معلق رہا اور کوئی فیصلہ نہ ہو سکا۔اس لئے چوہدری نعمت خانصاحب نے جملہ حالات سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں عرض کئے حضور نے فرمایا کہ میں نکاح پڑھ دیتا ہوں۔اختلاف خود ہی ختم ہو جائے گا۔چنانچہ حضور نے نکاح کا اعلان فرمایا۔اور۱۲ جنوری ۱۹۲۳ء کو تقریب رخصتا نہ عمل میں آئی۔اور بحمد اللہ کسی قسم کا انتشار پیدا نہیں ہوا۔محترم ایڈیٹر صاحب الحکم اس بارہ میں لکھتے ہیں۔”میرے مکرم بھائی حاجی غلام احمد خان ساکن کر یام اپنی نیک اور نمونہ کی زندگی کے لئے جالندھر اور د مذکور بالا بیان چوہدری احمد الدین صاحب کا ہے۔وہ یہ بھی ذکر کرتے ہیں کہ میں ان کے بڑے بیٹے کا داماد ہوں۔(اولاد کے لئے دیکھئے شجرہ) محترم امام بیگم صاحبہ کی وصیت ۷ امئی ۱۹۱۶ء کی ہے سند پر بطور میر مجلس کار پرداز حضرت مرزا محمود احمد صاحب (خلیفہ ثانی ایدہ اللہ تعالیٰ ) کے دستخط ہیں پہلے موضع کر یام میں امائنا دفن کی گئیں اور جلسہ سالانہ پر تابوت قادیان لایا گیا۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے قلم مبارک سے تدفین کی اجازت فرمائی ( فائل وصیت )