اصحاب احمد (جلد 10) — Page 92
92 نے خاص طور پر اس میں دلچسپی لی۔(25)۔آپ حاجی صاحب کے عقد زوجیت میں ہیں سال تک رہیں اور آپ نے وفاداری واطاعت کا اعلیٰ نمونہ دکھایا۔مرحومہ کم گو، عبادت گذار اور نیک سیرت خاتون تھیں۔خاندان حضرت مسیح موعود سے والہانہ محبت رکھتی اور احمدیت کے لئے دلی اخلاص و عزت رکھتی تھیں۔اور خواتین کے لئے اعلیٰ نمونہ تھیں۔حضرت حاجی صاحب کے دوش بدوش آپ نے خواتین کے لئے کام کیا۔آپ ابتدائی زمانہ میں سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوئی تھیں۔* * آپ بعمر ساٹھ سال ۱۴دسمبر ۱۹۵۸ء کو داعی اجل کو لبیک کہہ کر بہشتی مقبرہ ربوہ میں آرام فرما ہیں۔سیدنا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے آپ کا جنازہ پڑھایا۔** آپ کے بطن سے تین بیٹے اور ایک بیٹی حاجی صاحب کی اولاد ہوئی۔*** پانچصد روپیہ مہر پر یہ نکاح ہوا۔(الفضل مورخہ ۱۱/۱/۲۳ صفہ۱) ماخوذ از الفضل مورخه ۱/۱/۵۹ صفہ ۶ مرحومہ کی بیعت مسماۃ محمد جان صاحبہ کے الفاظ میں والدین کی بیعت کے ہمراہ البدر ۱۰/۰۳/ ۹ صفحه ۳۰۴ میں درج ہے۔اس وقت آپ چار پانچ سال کی ہوں گی لیکن ان کا حضرت مسیح موعود کی زیارت کرنے کا علم نہیں ہوسکا۔حضور کے جنازہ پڑھانے اور مرحومہ کے بہشتی مقبرہ میں دفن ہونے کا ذکر الفضل ۲۰/۱۲/۵۸ صفریہ میں ہے۔ی بیٹی اڑھائی سال کی عمر میں وفات پاگئی۔بڑے بیٹے چوہدری ظہور الدین احمد صاحب کی ولادت پر الحکم نے حاجی صاحب کو مبارک باد دی (۲۱/۹/۲۴ صفحه ۴ ) ان کی ولادت ۱۴/۸/۲۴ کو اور وفات ۳۰/۵/۵۰ کو ہوئی۔انہوں نے قادیان سے میٹرک کیا اگلے سال حاجی صاحب کی وفات واقع ہو جانے کے باعث بجائے ملازمت کے جائیداد کا کام سنبھال لیا۔اور با وجود کم عمری کے نہایت خوش اسلوبی سے کام سنبھالا۔اور جماعت کے کاموں میں خوب حصہ لینے لگے۔قائد مجلس خدم الاحمدیہ کی حیثیت سے نوجوانوں کے لئے مفید ثابت ہوئے تقسیم ملک کے بعد پاکستان میں ہجرت کر جانے پر مقامی جماعت میں بطور سیکرٹری مال کام کیا۔قرآن مجید کی خوش الحانی سے تلاوت کرتے۔تفسیر کبیر، الفضل اور دینی کتب کا باقاعدگی سے مطالعہ کرتے۔صوم وصلوٰۃ اور دیگر ارکان اسلام کے پابند تھے۔چھوٹی سی عمر میں ہی وصیت کر دی تھی۔اور باقاعدگی سے با شرح چندہ ادا کرتے تھے۔اور تحریک جدید کے مالی جہاد میں بھی شامل تھے خدمت خلق کا جذ بہ بہت تھا۔رفاہ عامہ کے کام بھی کرتے تھے۔طبیعت ہنس مکھ تھی ، بشاشت سے پیش آتے تھے۔کم گو اور شر میلے تھے ان کی یادگار ایک بچہ بشیر الدین احمد ہے۔بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر ملاحظہ فرمائیں