اصحاب احمد (جلد 10) — Page 86
86 سید عباس علی لدھیانوی بھی ساتھ تھے۔زیارت پر آئے تھے۔جو ایک مقدمہ کے دوران میں جالندھر گئے ہوئے تھے کہ ہم بھی گفتگو کریں گے۔مگر جب حضور کو دیکھا اور اس مجمع میں کلام کرتے سنا تو وہ خاموشی سے سنتے رہے اور میرے آنے پر بیعت کر لی کچھ طاعون نے مدد کی۔غرض سات ماہ کے اندراندرسینکڑوں تک جماعت کی تعداد پہنچ گئی۔اور پھر گاہے گاہے اور (لوگ) بھی شامل ہوتے رہے۔اور پھر ان کی اولادوں کے ذریعہ بھی جماعت بڑھتی گئی جس کی تعداد تین سو چھپیں کے قریب ہے۔یو ایک عبرت انگیز واقعہ:۔کریام میں ہماری پشتی حاجی والی کے نام سے مشہور ہے ایک شخص پہلے حاجی ہوتا تھا اس پتی میں رہنے والا ذیلدار اس کا بیٹا سب رجسٹرار اور پوتا ر سا ئیدار تھا۔جو مخالفت کے لئے کھڑے ہوئے تھے۔احمدی جماعت کے بائیکاٹ کا پراپیگنڈا شروع کیا۔ذیلدار مذکور گاؤں میں۔سب رجسٹرار تحصیل میں رسائیدار گاؤں میں مخالفت اور بائیکاٹ کا پراپیگنڈا کرنے لگے۔اور لوگ بھی ان کے ساتھ شامل ہوئے ذیلدار مذکور حضرت اقدس کو جذامی کہا کرتا تھا، وہ خود جذامی ہو گیا۔سب رجسٹرارتپ دق میں مبتلا ہو کر دہلی میں علاج کے لئے گیا۔مگر لاعلاج ہو کر واپس آیا۔راہ میں چل بسا۔رسائیدار بھی تپ دق میں گرفتار ہو کر مر گیا اور اس کا بھائی طاعون کا شکار ہوا۔گویا کہ اس گھر کو عذاب نے کچل کر رکھ دیا۔ذیلدار جذامی ہونے کی حالت میں دعا کیا کرتا کہ اے اللہ ! مجھے موت دے۔کیڑے پڑ کر مر گیا۔میں نے حضرت اقدس کی خدمت میں مسجد مبارک کے مغربی حصہ میں جہاں مولوی عبد الکریم صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ و حضرت اقدس علیہ السلام نماز کے لئے کھڑے ہوتے۔پھر وہ حصہ جس میں چھوٹی سی کوٹھڑی تھی جو توڑ دی گئی عرض کیا کہ ہمارے گاؤں کا ذیلدار حضور کو جذامی کہا کرتا تھا وہ خود جذامی ہو کر مر گیا۔حضور نے فرمایا۔مخالفین کے اندر تو جذام ہوتا ہے اللہ تعالیٰ بعض کے جسموں پر بھی ظاہر کر دیتا ہے۔آپ کے صاحبزادہ چوہدری احمد الدین خانصاحب بتاتے ہیں کہ ۱۹۴۷ء میں بٹوارے کے وقت احمدی افراد کی تعداد نصف ہزار تک پہنچ چکی تھی۔رپورٹ سالانہ صدر انجمن احمد یہ بات ۰۹۔۱۹۰۸ء سے معلوم ہوتا ہے کہ گذشتہ سال جماعت کی تعداد ایک سونو ے تھی (ص ۱۸) مراد روحانی جذام ہوتا ہے جو ان کی مخالفت و بیبا کی سے ثابت ہےالفضل مورخہ ۲۳/۶/۳۸ میں ذیلدار کا مولا بخش راجپوت حاجی صاحب نے بیان کیا ہے۔