اصحاب احمد (جلد 10) — Page 85
85 کریام میں طاعون :۔اس وقت کر یام میں طاعون کا بہت زور تھا۔گو یا موتا موتی لگ رہی تھی۔رات کے وقت کر یام پہنچا لوگ مسجد میں سن کر انتظار کرنے لگے مگر میں نے اپنے مکان میں نماز پڑھی وہ بڑے حیران ہوئے اور شدہ شدہ یہ خبر تمام گاؤں میں پھیل گئی کریام کی مردم شماری دوہزار کے قریب ہے مالک راجپوت ہیں اور لوگ موروثی۔ادھر طاعون کا زور۔ادھر سلسلہ عالیہ احمدیہ کی مخالفت۔غرض جدھر دیکھو احمدیت کا چرچا جس گھر سنو احمدیت کا ذکر۔بعض طاعون زدہ لوگوں کو بیعت کرائی گئی۔اور وہ تندرست ہو گئے۔غیر احمد یوں میں سے بعض نے بذریعہ خواب بیعت کی۔طاعون کا حملہ بہت سخت تھا۔یہ جو بیعت کرتا نماز کی پابندی کرتا منشیات وغیرہ سے پر ہیز کرتا۔بعض لوگ حیران ہو کر دریافت کرتے کہ یہ بندے کام چھوڑ بیٹھے ہیں۔زمینداروں کی کھیتیاں محفوظ ہو گئیں۔ایک برہمن ٹھا کر داس نامی کریام کا رہنے والا معمر اور با سمجھ تھا مجھے کہنے لگا کہ میں بیعت کرنا چاہتا ہوں۔مگر اس شرط پر کہ اپنے مذہب پر رہوں۔چونکہ بعض مسلمان گدی نشین اس قسم کی بیعت لے لیتے تھے کہ مرید اپنے مذہب پر رہے۔صرف شیرینی اور چڑھاوا دیتا رہے۔میں نے کہا جب تک اسلام میں داخل نہ ہو بیعت کوئی قبول نہیں۔بیعت کر کے اپنا باطل مذہب چھوڑ نا پڑے گا۔پھر وہ خاموش ہو گیا۔انہی دنوں کا ذکر ہے کہ ایک احمدی اور ایک غیر احمدی نمبر دار ایک گاؤں کو جارہے تھے موسم بہار تھا۔چنے کے کھیت پکے تھے۔احمدی نے راستہ میں ایک ٹہنی تو ڑ کر منہ میں چنا ڈالا پھر معاً اس نے خیال آنے پر تھوک دیا۔اور تو بہ تو بہ پکارنے لگا کہ پر ایا مال منہ میں کیوں ڈال لیا۔اس کے اس فعل سے نمبر دار مذکور پر بہت اثر ہوا۔وجہ اس کی یہ تھی کہ وہ احمدی اس سے پہلے ایک مشہور مقدمہ باز جھوٹی گواہیاں دینے والا۔رشوت خور تھا۔بیعت کے بعد ہی اس کے اندر اس قدر جلدی تبدیلی دیکھ کر کہ وہ پابند نماز قرآن کی تلاوت کرنے والا اور جھوٹ سے مجتنب رہنے والا بن گیا ہے۔نمبردار مذکور نے بیعت کر لی۔اور اس کے خاندان کے لوگ بھی احمدی ہو گئے۔کچھ لوگ حضرت اقدس کو جالندھر میں جن دنوں حضور زین العابدین کے مکان پر ٹھہرے تھے اور "ذکر حبیب مندرجہ الفضل مورخہ ۲۳/۶/۳۸ میں یہ بھی مرقوم ہے کہ آپ کا غیر احمدیوں کے ساتھ نماز نہ پڑھنا مخالفت کا باعث بنا۔ان دنوں سوائے اس گفتگو کے کریام میں کوئی چر چاہی نہ رہا۔جو بیعت کرتا وہ طاعون سے سلامت رہتا۔باقی طاعون کا شکار ہوتے جاتے۔