اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 81 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 81

81 بعض لوگ خود ہی حسب ضرورت دودھ پی لیتے اور خود ہی قیمت رکھ جاتے۔جماعت احمدیہ کی دینی واخلاقی حالت نہایت اعلیٰ دیکھی گئی۔ایک دفعہ میں مسلسل ایک ماہ قادیان میں رہا جب میں اپنے گاؤں کر یام آیا۔ایک شخص کو گالی نکالتے سنا۔میں نے کہا پورے ایک ماہ بعد یہ آواز ناشائستہ میرے کانوں (میں *) پڑی ہے۔بیعت اور حضور کی تقریر: اسی طرح چار پانچ یوم گذر گئے تو مغرب کے بعد حسب معمول حضرت صاحب تشریف رکھتے تھے۔ہم دونوں نے بیعت کے لئے عرض کی۔ہماری عرضداشت قبول ہوئی حضور نے ہمارے ہاتھ اپنے دست مبارک میں لے کر کلمہ شہادت پڑھ کر اقرار کرایا کہ بچے دل سے کہو کہ میں دین کو دنیا پر مقدم رکھونگا۔اس کے بعد حضور نے تقریر فرمائی کہ شرک سے خدا بہت بیزار ہے“۔جس طرح کسی خاوند کی عورت دوسرے کے پاس چلی جاوے اس سے بڑھ کر غیرت ہے کہ خدا کا بندہ اپنے معبود کو چھوڑ کر دوسرے کی پرستش کرے اور عبادت کے متعلق فرمایا کہ جس طرح بھوکے کے لئے دو چار روٹیاں اور پیاسے کے لئے ایک دو گلاس پانی پینے کی ضرورت ہوتی ہے اگر بھو کا ایک دانہ اور پیاسا ایک قطرہ پانی کاپی لے تو اس سے بھوک اور پیاس دورنہ اگر بھوکا ہوگی۔جب تک پوری خوراک کی مقدار حاصل نہ ہو۔اسی طرح زبانی کلمہ پڑھنے سے کچھ نہیں بنتا جب تک پوری عبادت نہ کی جاوے۔آپ کی تقریر کیا تھی۔آب حیات تھی جو مردہ دلوں کو زندہ کرتی تھی۔دوران تقریر میں آپ نے فرمایا کہ کسی غیر احمدی کے پیچھے نماز نہ پڑھنا۔خاکسار نے عرض کیا کہ حضور بعض آدمی نہ آپ کی بیعت میں شامل ہیں اور نہ آپ کو برا سمجھتے ہیں ان کی نسبت کیا حکم ہے؟ آپ نے فرمایا وہ بیعت میں شامل نہیں ہیں۔اس لئے ان کے پیچھے بھی (نماز کو ) نہ پڑھنا چاہئے۔نیز آپ نے فرمایا۔حاجی صاحب دوسری جگہ مفہوماً بیان کرتے ہیں کہ حضور نے بیعت کے بعد تقریر میں فرمایا۔کہ شرک اللہ تعالیٰ کو اسی طرح نا پسند ہے۔جیسے کسی شخص کی منکوحہ بیوی دوسرے شخص سے ناجائز تعلقات پیدا کر لیتی ہے اس کا خاوند کہتا ہے کہ تیری اور کمزوریوں سے تو درگذر ہو سکتی ہے مگر دوسرے شخص سے تعلق پیدا کرنے سے میں سخت بیزار ہوں۔اور عبادت کے متعلق فرمایا۔جس طرح جسم کے لئے غذا اور کافی غذا کی ضرورت ہے اسی طرح روح کے لئے غذا اور کافی غذا کی ضرورت ہے۔اسی طرح کلمہ پڑھ کر سمجھ لینا کہ عبادت ہو گئی یہ روح کے لئے کافی نہیں نیز فرمایا کہ جس نے میری بیعت نہ کی وہ اس کے پیچھے نماز نہ پڑھیں۔میں نے عرض کی کہ بعض لوگ حضور کو سچا سمجھتے ہیں اور تعریف کرتے ہیں مخالفت کبھی نہیں کرتے ان کے بارے میں حضور کا کیا حکم ہے؟ فرمایا وہ بیعت کو لغو سمجھتے ہیں۔بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر