اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 82 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 82

82 اس بات کا غم نہ کرنا۔اللہ تعالیٰ بہت جلد جماعت قائم کر دے گا۔یہ بات کیا تھی۔ایک پیشگوئی تھی۔جو خدا کے حکم سے کی گئی مجھے یہ بات ہمیشہ یاد رہتی ہے۔اور اس کی یاد دل کو ایمان سے بھر دیتی ہے کہ سات ماہ میں جماعت احمد یہ سینکڑوں کی تعداد تک پہنچ گئی تھی پھر (ہم *) ہر سال حضرت صاحب کی زندگی میں دو دو تین تین مرتبہ حضور کی زیارت کا شرف حاصل کرتے۔جدید چوہدری بشارت علی خان صاحب اور حاجی صاحب کے اسماء اخبارات سلسلہ کے بیعت کنندگان میں نہیں مل سکے۔اور نہ ہی اس قدر تعداد بیعت کنندگان موضع کریام کی سات ماہ میں اخبارات میں درج ہے۔سواس کی وضاحت کے لئے تحریر ہے کہ جہاں تک مجھے مطالعہ سے معلوم ہوا ہے حضور کے عہد مبارک میں بیعت کنندگان کے اسماء اس طور پر اخبارات میں شائع نہیں ہوتے تھے کہ کسی کا نام باقی نہ رہ جاتا ہو۔کثیر تعداد ایسے صحابہ کی ہے جن کے اسماء اخبارات میں نہیں ملتے باوجود اس کے ۱۹۰۳ء کے بقیہ عرصہ میں موضع کریام کے آٹھ ، چونتیس اور انہیں افراد کے اسماء البدر میں صفحات ۳۲۰،۳۰۴،۲۶۴ پر موجود ہیں۔البتہ اس کی تائید رپورٹ سالانہ صدرانجمن احمد یہ بابت ۰۹۔۱۹۰۸ء سے بھی ہوتی ہے وہاں مرقوم ہے کہ کر یام میں تعداد مبائعین ایک صد پچاسی (۱۸۵) ہے گذشتہ سال پانچ افراد وفات پاگئے (ص ۱۸) چوہدری بشارت علی خاں صاحب کے حالات اس کتاب میں دوسری جگہ درج کے گئے ہیں۔بقیہ حاشیہ صفحہ سابقہ۔ان کے پیچھے بھی نماز نہ پڑھیں (خلاصہ از مئولف) نیز فرمایا اللہ تعالیٰ جلد جماعت پیدا کر دیگا۔چنانچہ چھ ماہ کے اندر اندر جماعت کر یام بن گئی جس کی ۲۹/۱۱/۱۳۷ کو مردم شماری میں تین صد پندرہ کی تعداد تھی۔یعنی ۱۹۰۳ء میں چھ ماہ کے اندراندر جو جماعت تیار ہوئی۔اس کے بعد بہت تھوڑی تعداد تھی غیر احمدیوں سے آئی۔البتہ پہلے احمدیوں کی اولاد سے ہی تعداد میں ترقی ہوئی۔یہ حضور کے کلمات میرے لئے ہمیشہ از دیاد ایمان کا باعث رہے ہیں (ماخوذ از روایات مندرجہ الفضل مورخه ۲۳/۶/۳۸) حاجی صاحب کی روایات مندرجہ الفضل مورخہ ۲۳/۶/۳۸ میں آخر جنوری یا ابتداء فروری ۱۹۰۳ء میں بیعت کرنے کا ذکر ہے۔آپ کے فائل وصیت میں بھی ۱۹۰۳ء میں بیعت کرنا درج ہے اور بیعت والے قیام قادیان کے دوران میں حاجی صاحب نے الہام يَوْمُ الاثْنَيْنِ وَ فَتَحُ الْحُنَيْنِ “ ( 21 ) سنا تھا اس کی تاریخ نزول ۷افروری ۱۹۰۳ ء ہے۔الحکم میں حضور کے وہ کلمات طیبات درج ہیں جو حضور نے ۵ فروری ۱۹۰۳ء کو بعض افراد کے بیعت کرنے پر ارشاد فرمائے تھے جو ذیل میں نقل کئے ہیں اور حاجی صاحب نے اپنی بیعت کے موقع پر حضور کی تقریر دو مقامات پر درج کی ہے تینوں کے مطالعہ سے عیاں ہے کہ ان میں کیسی مطابقت و مشابہت ہے؛ ان مشابہ امور کو میں نے خط کشیدہ کر دیا ہے۔سو ثابت ہوتا ہے کہ حاجی صاحب کی بیعت ۵ فروری ۱۹۰۳ء کی ہے اور آپ کے بیان کے بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر