اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 80 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 80

80 دریافت کیا۔آپ یعنی حضرت مسیح موعود کہاں ملیں گے ؟۔انہوں نے کہا حضور نماز مغرب کے لئے مسجد مبارک میں تشریف لائیں گے تو زیارت ہوگی۔مغرب کے وقت ایک چوبارہ پر جو چھوٹی سی مسجد تھی اس میں گئے نماز مغرب مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم نے پڑھائی۔نماز سے فارغ ہو کر حضرت صاحب" بیٹھ گئے۔آپ سے مصافحہ کیا ، آپ کی شکل متبرک تھی گفتگو ہونے لگی۔مفتی محمد صادق صاحب ( مبلغ انگلستان وامریکہ ) اخبار سنانے لگے۔غرض دیر تک مسجد میں تشریف فرما ر ہے۔میرے ساتھی بابو بشارت علی خانصاحب نے کہا آؤ بیعت کر لیں۔میں نے کہا کہ پھر کریں گے صبح کے وقت آپ سیر کے لئے تشریف لے جاتے تھے۔میل دو میل چلے جاتے۔ان دنوں ( موضع ) بسر اواں کی طرف جاتے تھے۔اس وقت کا قادیان:۔شہزادہ عبداللطیف صاحب کا بلی بھی ان دنوں وہاں تشریف فرما تھے۔وہ بھی سیر کو ہمراہ تشریف لے جاتے۔راہ میں کوئی ذکر شروع ہو جاتا۔حضرت اس طرح اس کو بیان فرماتے کہ سننے والا گویا شربت پی رہا ہے۔ان دنوں یہ روحانی نعمتیں میسر تھیں :۔حضرت اقدس کا سیر میں اسرار حق بیان فرمانا۔مولانا نورالدین رضی اللہ عنہ کا درس قرآن۔مولوی عبد الکریم صاحب رضی اللہ عنہ کا امامت میں تلاوت قرآن کریم۔احمد نور کا بلی کا خوش الحانی سے بلند اذان دینا۔مجھے حقہ پینے کی عادت تھی میں نے مہمان خانہ (اور ) احد یہ بازار میں کسی جگہ بھی حقہ نہ دیکھا۔اس سے متاثر ہوکر میں نے اسی روز سے حقہ کو خیر باد کہہ دیا۔کہ جب یہ پاک لوگ اس کو استعمال نہیں کرتے۔ہمیں بھی نہ کرنا چاہئے۔مہمان خانہ میں شہزادہ عبداللطیف صاحب کا بلی اور احمد نور کا بلی کے علاوہ دیگر افغانستان کے احباب بھی فروکش تھے۔رات کے وقت جب بھی ہماری آنکھ کھلتی تو ان لوگوں کو تہجد پڑھتے دیکھا گیا۔فجر کی نماز کے بعد تمام طلباء اپنی اپنی چار پائیوں پر مشغول تلاوت قرآن کریم دیکھے گئے۔اور ادائیگی نماز کے لئے تمام طلباء ایک ترتیب سے با قطار مسجد اقصے میں جاتے۔اور استاد صاحبان ہمراہ ہوتے۔ان دنوں ایک دکاندار شیخ غلام احمد صاحب نو مسلم رضی اللہ تعالیٰ عنہ جوشیر فروشی کا کام کرتے تھے ان کی دکان پر شیخ صاحب واعظ کے نام سے مشہور تھے۔صاحب کشف بزرگ تھے۔بتاریخ ۱۲/۱۰/۳۵ وفات پا کر بہشتی مقبرہ قادیان میں مدفون ہوئے۔