اصحاب احمد (جلد 10) — Page 478
478 میں نے احباب قادیان کو جمع کر کے تحریک کی تو پانچ ہزار کے قریب چندہ ہو گیا۔دوسرے روز مردوں اور مستورات میں تحریک کی تو کل چندہ بارہ ہزار کے قریب ہو گیا۔انشاء اللہ تعالیٰ اس غریب جماعت سے اس قدر وصولی خاص تائید الہی کے بغیر نہیں ہو سکتی تھی۔اللہ تعالیٰ کا خاص فضل اس چندہ کے ساتھ شامل ہے۔قادیان کے لوگوں کا جوش وخروش دیکھنے کے قابل تھا۔اخلاص تو دل میں پہلے سے ہوتا ہے۔یہ اس کے اظہار کا خاص موقع تھا۔یوں معلوم ہوتا تھا کہ قادیان کے احمدیوں کا اخلاص اہلنے کے درجہ تک پہلے سے پہنچا ہوا تھا۔اور صرف بہانہ ڈھونڈ رہا تھا اور مرد اور عورت اور بچے سب ایک خاص نشہ محبت میں چور نظر آتے تھے۔عورتوں کا چندہ ہی دو ہزار سے بڑھ گیا۔اور سب کا سب وصول ہو گیا۔کئی عورتوں نے اپنے زیور اتار دیے اور بہتوں نے ایک دفعہ چندہ دے کر ہوش آنے پر دوبارہ اپنے بچوں کی طرف سے چندہ دینا شروع کیا اور پھر بھی جوش کو دبتانہ دیکھ کر اپنے وفات یافتہ رشتہ داروں کے نام سے چندہ دیا۔بچوں کا یہ حال تھا کہ ایک غریب محنتی شخص کے بچے نے جیب خرچ کے پیسے ساڑھے تیرہ روپے نہ معلوم کن امنگوں سے جمع کئے تھے۔ان امنگوں کو بھی قربان کرتے ہوئے سارے پیش کر دیئے۔مدرسہ احمدیہ کے غریب طلباء نے جو ایک سو سے بھی کم ہیں اور ان میں سے اکثر وظیفہ خوار ہیں، ساڑھے تین سو روپیہ چندہ لکھوایا گویا کئی ماہ کی اشد ضروریات پورا کرنے سے انہوں نے محرومی اختیار کرلی۔مردوں کی ایک بڑی تعداد نے اپنی ماہوار آمد نیوں سے زیادہ چندہ لکھوایا بعض نے جو کچھ نقد پاس تھا۔دے دیا اور کھانا پینے کا انتظام قرض لے کر کیا۔ایک صاحب نے جو بوجہ غربت زیادہ چندہ نہیں دے سکتے تھے۔نہایت حسرت سے مجھے لکھا کہ میرے پاس اور کچھ نہیں۔میری دکان نیلام کر لی جائے۔بعض نے سکنی اراضی چندہ میں دے دیں۔بعض لوگوں نے بجائے ( آئندہ کچھ عرصہ میں ) آہستہ آہستہ ادائیگی کرنے کے زیورات وغیرہ فروخت کر کے اپنے وعدے ایفاء کر دیئے۔قادیان والوں کے اسجذ بہ کے ظاہر ہونے سے بعض لوگوں میں جو غلط فہمی پھیلی ہوئی ہے، دور ہوگی کہ قادیان میں لوگ سکتے بیٹھے ہیں ان کو باہر بھیجا جائے تا وہ کمائیں اور چندہ بھی دیں۔حالانکہ چند معذور افراد کے سوا احباب سخت محنت سے روزی کماتے ہیں اور اپنے فارغ اوقات کو اشاعت دین میں صرف کرتے ہیں اور دیگر جماعتوں کی نسبت زیادہ چندہ دیتے ہیں۔میں یہ خوشخبری بھی سناتا ہوں کہ امرتسر اور لاہور کی جماعتوں نے بھی خاص ایثار سے کام لیا ہے اور اوپر بیان کردہ بدظنی سے پاک ہیں کیونکہ بوجہ قرب اور کثرت تعلقات کے وہ اہل قادیان کے بارے حقیقت سے آگاہ ہیں۔امرتسر کی غریب اور قلیل جماعت نے بھی دو ہزار سے اوپر چندہ لکھوایا ہے اور لاہور کے بارے اطلاع کے