اصحاب احمد (جلد 10) — Page 477
477 احمد یہ لنڈن کی تحریک کرتے ہوئے فرمایا کہ ”ہمارے مشنری جولنڈن گئے ہوئے ہیں جس مکان میں وہ ٹھہرے ہوتے ہیں۔اور کام زور شور سے شروع ہوتا ہے تو کسی وجہ سے مکان تبدیل کرنا پڑتا ہے۔لنڈن شہر ایک سو بیس میل میں آباد ہے۔اس لئے بعض دفعہ وہاں پہلے مکان سے تمیں چالیس میل پر دوسرا مکان ملتا ہے۔یہ تبدیلی گویا ایسی ہے جیسے قادیان سے کوئی امرتسر یا لاہور میں مکان تبدیل کر کے حاصل کرلے۔مکان کی تبدیلی سے زیر تبلیغ افراد پر بہت برا اثر پڑتا ہے۔لوگ ہمارے مبلغ سے تعلق پیدا کرنے سے ڈرتے ہیں کہ یہ پر دیسی ہے چند روز کے لئے ٹھہرا ہوا ہے لیکن مکان بنوانے سے سمجھتے ہیں کہ اب یہ یہاں ہی رہے گا۔لنڈن میں مہنگائی ہے چھ سات روپے مزدور کی یومیہ اجرت ہے۔وہاں چھوٹا سا مکان بھی کسی کو ملے تو بسا غنیمت متصور ہوتا ہے۔پس لنڈن میں ایک چھوٹا مکان اور مسجد بہت بڑی سمجھی جائے گی اور اس کا بہت بڑا نام ہو گا۔اس وقت وہاں لاکھوں لوگ ہیں۔جن کے پاس گھر نہیں ہیں۔ہمیں پچاس ساٹھ ہزار روپیہ مطلوب ہے۔اگر ایک ماہ میں تمیں ہزار جمع ہو جائے تو پونڈ کی قیمت بہت کم ہو جانے کی وجہ سے یہی رقم پچاس ہزار ہو جائے گی۔کسی مسجد یا کنویں یا سرائے کی تعمیر کو عورتیں باعث ثواب سمجھتی ہیں۔سوامید ہے کہ مستورات اس چندہ میں خاص طور پر حصہ لیں گی۔‘، (۱۰۵) حضور کی اس تحریک پر عورتوں نے قریباً اڑہائی ہزار روپیہ چندہ دیا۔پھر حضور نے ایک مفصل سات کالم کی تحریک جماعت کو فرمائی جس میں مزید یہ بتایا کہ ہماری یہ مسجد اولین مسجد کہلانے کی مستحق ہوگی۔کیونکہ اسے ضرورت ہونے پر تعمیر کیا جانا ہے۔وہ کنگ کی مسجد بلاضرورت تعمیر ہوئی پھر سالہا سال مقفل رہی۔احباب خصوصاً صاحب ثروت و دولت دوسرے متمول افراد سے زیادہ ہمت دکھا ئیں اور الہی افضال اور آئندہ آنے والی نسلوں کی دعاؤں کے مستحق بنیں۔انگلستان وہ مقام ہے جو صدیوں سے تثلیث پرستی کا مرکز ہے۔اس میں ایک ایسی مسجد کی تعمیر جس پر سے پانچ وقت لا الہ الا اللہ کی صدا بلند ہو، کوئی معمولی کام نہیں ہے۔یہ عظیم الشان کام ہے جس کے نیک ثمرات نسلاً بعد نسل پیدا ہوتے رہیں گے اور تاریخ اسے یا در کھے گی۔یہ مسجد ایک نقطہ مرکزی ہوگی جس میں نورانی شعاعیں نکل کر تمام انگلستان کو منور کر دیں گی۔سواے صاحب ثروت احباب ! اٹھو اور ہمیشہ کے لئے ایک نیک یاد گار چھوڑ و تا ابدی زندگی میں اس کے نیک ثمرات پاؤ۔وہ شمرات جن کی لذت کا اندازہ انسانی دماغ کر ہی نہیں سکتا۔غرباء تو ہزاروں طریق سے خدمت دین کر کے ثواب کمار ہے ہیں اور اس میں بھی وہ کوشش کریں گے وہ بوجھ اٹھانے کے عادی ہو گئے ہیں۔یہ مضمون ۶ / جنوری ۱۹۲۰ ء کا تھا۔اس کے تمہ میں حضور نے لکھا کہ :