اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 479 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 479

479 (۱۰۶) مطابق وہاں سے دس ہزار سے زیادہ چندہ جمع ہو جائے گا۔گویا مطلوبہ رقم گورداسپور ، امرتسر اور لاہور کے اضلاع سے ہی پوری ہو جائیگی۔( حضور نے ۹ جنوری ۱۹۲۰ء کو اپنے خطبہ میں احباب کو تلقین کی کہ حسن نیت سے چندہ دیں اور جیسے زمیندار دگنا خرچ کر کے بھی پکنے والی فصل کو پانی دلواتا ہے، اسی طرح ولایت میں تبلیغ پر صرف کردہ روپیہ سے نیک نتیجہ کے نکلنے کے لئے ہمیں ضروری اسباب مہیا کرنے چاہیں۔چونکہ لنڈن کفر کا مرکز ہے، اس لئے ہمیں وہاں مستقل جماعت کی بنیا د رکھنی چاہیے ورنہ پہلے کا صرف کردہ رقم ایک لغو فعل شمار ہوگا۔مجھے یقین ہے کہ یہ کام رضائے الہی کے ماتحت ہو رہا ہے مجھے تین اہم معاملات میں اب تک رویت الہی ہوئی ہے پہلے بچپن میں جبکہ مجھے حشر ونشر نظارہ بھی دکھایا گیا۔میری توجہ دین سیکھنے اور دین کی خدمت کرنے کی طرف پھیری گئی۔دوسرا جب کہ وہ لوگ جن کے ہاتھ میں سلسلہ احمدیہ کے دنیا وی امور تھے۔اور وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوی کو گھٹانے کی کوشش میں تھے اس وقت میں نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا اور مجھے حضرت صاحب کی نبوۃ پر یقین دلایا گیا۔تیسری دفعہ آج مجھے رویت الہی ہوئی ہے جس سے مجھے یقین ہے کہ یہ کام عند اللہ مقبول ہے۔جہاں تک مجھے یاد ہے وہ یہ ہے کہ میں مسجد لندن کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے حضور دوزانو بیٹھا پیش کر رہا ہوں اللہ تعالیٰ نے فرمایا جماعت کو چاہیے کہ ”جد سے کام لے ”ہنرل سے کام نہ لے۔یعنی جماعت سنجیدگی اور نیک نیتی سے کام لے۔ہنسی اور محض واہ واہ کے لئے کوشش نہ کرے گویا نیک نیتی کے ساتھ اس مسجد سے لاکھوں فوائد ہو سکتے ہیں۔(۱۰۷) وو اخبار تنظیم امرتسر نے اس جماعتی ایثار کو فدائیت کی حیرت انگیز مثال قرار دیتے ہوئے لکھا کہ تعمیر مسجد کی تحریک ۶ جنوری ۱۹۲۰ء امیر جماعت احمدیہ نے کی۔اس سے زیادہ مستعدی اس سے زیادہ ایثار اور اس سے زیادہ سمع واطاعت کا اسوہ حسنہ اور کیا ہوسکتا ہے کہ ۱۰ جون تک ساڑھے اٹھہتر ہزار روپیہ نقد اس کارِ خیر کے لئے جمع ہو گیا تھا۔کیا یہ واقعہ نظم و ضبط امت اور ایثار و فدائیت کی حیرت انگیز مثال نہیں ؟ (۱۰۸) اس سے قبل آریہ اخبار کاش لا ہور نے جماعت احمدیہ کی داد دیتے ہوئے تحریر کیا کہ اس ( مسجد لندن کی تعمیر) کا اندازہ نہیں ہزار لگایا گیا ہے۔لنڈن جیسے شہر میں تمیں ہزار کی لاگت پر ایک مسجد کا تیار ہونا ہماری سمجھ میں نہیں آیا ہے لیکن اس بات کو چھوڑ کر ہم ان کی ہمت کی طرف نظر ڈالتے ہیں۔مرزا محمود احمد صاحب نے قادیان کے احمدیوں سے اپیل کی جس پر بارہ ہزار روپیہ جمع ہو گیا۔جب قادیان میں اس قدر