اصحاب احمد (جلد 10) — Page 476
476 (۹) ایک مضمون کی اشاعت میں اعانت ایک شخص نے پانچ سوالات کئے اور لکھا کہ میں حضرت مرزا صاحب کو مصلح اعظم ماننے کو تیار ہوں لیکن اظہار احمدیت سے خائف ہوں کیونکہ قبول احمدیت کی صورت میں مجھے تمام مسلمان کا فر کہیں گے مجھے ان کی اقتداء میں نماز پڑھنے سے رکنا پڑے گا۔تکالیف اٹھانی پڑیں گی۔اسلام نے فرقہ بندی سے منع کیا ہے۔قرآن وحدیث میں مہدی ومسیح پر علانیہ ایمان لانے کی ہدایت نہیں خفیہ ایمان رکھنے میں حرج نہیں دیکھتا۔ان سوالات کے مدلل ومفصل جوابات حضرت خلیفہ مسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی طرف سے الفضل بابت ۱۳ را پریل ۱۹۱۵ء کے نو کالموں میں شائع ہوئے۔مزید یہ مرقوم ہے :- حضور کا (یہ) مضمون پمفلٹ کی صورت میں سولہ صفحہ حجم پر تین ہزار طبع ہوا ہے ایک ہزار جناب حبیب الرحمن صاحب کی طرف سے اور باقی کے دو ہزار کے کاغذ کا خرج منشی ہاشم علی صاحب نے دیا ہے اور لکھائی چھپوائی جناب ذوالفقار علی خاں صاحب نے۔جزا ہم اللہ احسن الجزاء۔اب تمام احباب کو چاہیئے کہ محصول (101)66 ڈاک حسب ضرورت فی پانچ، آدھ آنے کے حساب سے بھیج کر ایسے لوگوں میں تقسیم کریں جو سلسلہ کی طرف متوجہ ہیں مگر بیعت سے رکے ہوئے ہیں،، (۱۰۳) گویا اس وقت جماعتی طور پر اسی تعداد میں پمفلٹ مطلوب تھے اور ان تین احباب کو اس کے سارے اخراجات برداشت کر کے ثواب عظیم کے حصول کی توفیق عطا ہوئی۔(۱۰) مسجد ولایت کے لئے مالی اعانت اور اس کی ترغیب۔حضرت مفتی محمد صادق صاحب مبلغ انگلستان نے جو امریکہ میں متعین ہو کر جانے والے تھے۔ایک رپورٹ میں یہ ذکر کیا تھا کہ انگلستان سے تبلیغ کے لئے ایک رسالہ کا اجراء ضروری ہے۔ایام جنگ عظیم ( نمبرا) میں کسی نئے رسالہ کے اجراء کی ممانعت تھی۔اب اجازت ہے دوسرے مضافات لندن میں ایک احمدیہ مسجد اور ایک مہمان خانہ تعمیر کرنے کی ضرورت ہے۔آپ کا یہ مکتوب ۱۹۱۹ء کے جلسہ سالانہ میں سنا دیا گیا تھا۔(۱۰۴) بعد ازاں ۷ جنوری ۱۹۲۰ء کو حضرت خلیفتہ اسی رضی اللہ عنہ نے قادیان کی مستورات میں چندہ مسجد بقیہ حاشیہ: رئیس حاجی پور نے ایک خریدار مہیا کیا ( شمارہ جولائی ۱۹۰۶ ء سر ورق صفحه ماقبل آخر ) رسالة تفخیذ الاذہان کا چندہ دوروپے ایک آنہ اور چار روپے دو نہ کی ادائیگی علی الترتیب شمارہ مئی ۱۹۱۳ء صفحہ ”ب“ کالم ۳ و شمارہ جولائی ۱۹۱۳ء سر ورق ما قبل آخر میں درج ہے