اصحاب احمد (جلد 10) — Page 406
406 (۶۲) ،، لا يعلمون لاہور کے متعلق پیشگوئی منشی حبیب الرحمن صاحب نے بواسطہ شیخ عبد الرحمن صاحب بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مسجد مبارک میں احباب میں تشریف فرما تھے۔کہ فرمایا کہ لاہور شہر کا نام ونشان نہیں رہے گا۔اور لوگ پوچھا کریں گے کہ یہاں ایک شہر لاہور آباد ہوا کرتا تھا۔حضرت اقدس کا سفر دہلی ۱۹۰۵ء میں حضرت ام المومنین کا ارادہ دہلی اپنے وطن جانے کا تھا جس کی ایک عمدہ تقریب یہ پیدا ہوئی کہ آپ کے بھائی ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب دہلی میں متعین ہو گئے تھے۔پہلے یہ خیال تھا کہ آپ اپنے والد ماجد کی معیت میں تشریف لے جائیں گی لیکن مسنون استخارہ پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو الہام ہوا کہ لَا تَقُومُوا وَلَا تُقْعَدَوا إِلَّا مَعَهُ ☆ (۶۴) شیخ عبدالرحمن صاحب کی طرف سے الفضل ۳۰ / جولائی ۱۹۶۷ء ( صفحہ ۲) میں اپنے والد صاحب کی یہ روایت شائع ہوئی جو والد صاحب نے حاجی پور آنے والے برگزیدہ اصحاب کو سینکڑوں بارسنائی منشی صاحب نے بتایا کہ میں اس مجلس میں موجود تھا۔شیخ صاحب نے یہ بھی لکھا ہے۔کہ والد صاحب سے سن کر ہم بھائیوں نے دیگر احباب سے اکثر اس روایت کو بیان کیا۔(اس بارے میں اٹھا ئیں صحابہ کرام کی روایات کا حوالہ تذکرہ میں دیا گیا ہے۔طبع چہارم صفحہ ۷۹۴ و ۷۹۵ ) الفضل میں شائع شدہ ان روایات کو غور سے مطالعہ کرنے پر خاکسار مؤلف کو یہ سمجھ آیا کہ حضرت اقدس نے ۱۸۹۷ء سے ۱۹۰۴ء تک متعدد بار گورداسپور اور قادیان میں اس پیشگوئی کا ذکر کیا کیونکہ بعض نے گورداسپوریا قادیان میں معین طور پر سننے کا ذکر کیا ہے اور بعض نے بعض واقعات کے سلسلہ میں اس کا بیان ہونا بتایا ہے۔۱۔حضرت ماسٹر عبدالرحمن صاحب جالندھری سابق مہر سنگھ کا بیان ہے کہ حضور نے فرمایا کہ نشان لیکھر ام سے ( جو پورا ہو ابتاریخ ۶ / مارچ ۱۸۹۷ء ) لوگوں نے فائدہ نہیں اٹھایا اور اس سلسلہ میں لاہور کی تباہی کی پیشگوئی کا ذکر مسجد مبارک میں کیا۔( الفضل ۳۰ / جون ۱۹۴۷ء - صفحہ ۴ ) ۲ - حضرت مولوی عبد الرحیم صاحب غیر معین طور پر غالباً جون ۱۹۰۴ء میں گورداسپور میں حضور کی طرف سے اس کے بیان کا ذکر کرتے ہیں۔جبکہ حضور کسی مقدمہ میں تشریف لے گئے تھے اور لاہور کی عظمت کا ذکر ہوا تھا۔نیر صاحب کا بیان ہے کہ میں اس مجلس میں موجود تھا۔(الفضل ۴ جولائی ۱۹۴۷ء صفحہ ۳ ) ( باقی اگلے صفحہ پر )